مسلسل اپ ڈیٹس

آئی ایم ایف جائزے کے دوران وفاقی اور صوبائی حسابات میں 853 ارب روپے کے شماریاتی فرق کی وضاحت

آئی ایم ایف کے جاری جائزے کے دوران پاکستانی حکام نے وفاقی اور صوبائی حسابات میں مالی سال 2025-26 کے حسابات میں سامنے آنے والے مجموعی طور پر 853 ارب روپے کے شماریاتی فرق کی تفصیلات فراہم کرنے اور مزید وضاحت دینے کی یقین دہانی کرائی۔ حکام نے فرق کی ممکنہ وجوہات میں صوبائی حکومتوں کی ٹریژری پیپرز میں سرمایہ کاری، سالانہ حساب کے اختتام سے پہلے جاری کردہ چیکس، نقد ادائیگیوں کے وقت کا فرق اور مختلف اکاؤنٹنگ طریقہ کار شامل بتائے۔ رپورٹ میں وفاقی کھاتوں سے منسلک 448 ارب روپے اور پنجاب کے کھاتوں میں 266 ارب روپے کے فرق کا ذکر ہے۔ حکومت کا موقف ہے کہ یہ فرق بنیادی بجٹ سرپلس (2.9% جی ڈی پی) پر منفی اثر نہیں ڈالے گا اور پروگرام کی مالی شرائط پوری کی گئی ہیں، جبکہ آئی ایم ایف کی حتمی توثیق مذاکرات کے بعد سامنے آئے گی۔ مذاکرات میں زرعی آمدن ٹیکس کی کم وصولی اور ایف بی آر کے اہداف پر پیش رفت بھی زیر بحث رہی؛ سندھ اور پنجاب میں گزشتہ مالی سال کے نسبتاً کم وصولی کے اعداد و شمار اور موجودہ مالی سال کے ہدف شامل ہیں۔

1 خبریںآخری خبر:

خبروں کا تسلسل · تازہ ترین پہلے