اسلام آباد: پاکستان نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے جائزہ مشن کو وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے مالیاتی حسابات میں سامنے آنے والے 853 ارب روپے کے شماریاتی فرق کے بارے میں مزید معلومات فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔ ایکسپریس ٹریبیون کی رپورٹ کے مطابق آئی ایم ایف مشن نے بجٹ کے اعداد و شمار، وفاقی بلاک مختصات، زرعی آمدن ٹیکس کی وصولی اور وفاقی ٹیکس اہداف سے متعلق حکام کے ساتھ تفصیلی بات چیت کی۔
رپورٹ میں سرکاری ذرائع کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ مالی سال 2025-26 کے حسابات میں مجموعی طور پر 853 ارب روپے کا فرق رپورٹ ہوا، جس میں وفاقی حکومت کے کھاتوں سے منسلک 448 ارب روپے بھی شامل ہیں۔ حکام نے اس فرق کی وجوہات میں صوبائی حکومتوں کی ٹریژری پیپرز میں سرمایہ کاری، مالی سال کے اختتام سے پہلے جاری کیے گئے چیکس اور نقد ادائیگی کے اصل وقت میں فرق، اور مختلف اکاؤنٹنگ طریقہ کار کو شامل کیا۔ پنجاب کے کھاتوں میں 266 ارب روپے کے فرق کا ذکر بھی کیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق وزارت خزانہ نے آئی ایم ایف کو بتایا کہ یہ شماریاتی فرق حکومت کے 2.9 فیصد جی ڈی پی کے بنیادی بجٹ سرپلس پر منفی اثر نہیں ڈالے گا۔ پاکستان کا مؤقف ہے کہ پروگرام کی بنیادی مالیاتی شرط پوری کی گئی ہے اور حکام کو امید ہے کہ موجودہ جائزہ مذاکرات 7 اکتوبر تک کامیابی سے مکمل ہو سکتے ہیں۔ یہ مؤقف حکومتی ذرائع سے منسوب ہے اور آئی ایم ایف کی حتمی توثیق مذاکرات کے اختتام پر سامنے آئے گی۔
آئی ایم ایف نے زرعی آمدن ٹیکس کی وصولی پر بھی پیش رفت پوچھی۔ رپورٹ کے مطابق گزشتہ مالی سال سندھ میں 2 ارب روپے کے ہدف کے مقابلے میں تقریباً 1.1 ارب روپے جبکہ پنجاب میں 10.5 ارب روپے کے ہدف کے مقابلے میں تقریباً 4 ارب روپے وصول ہوئے۔ موجودہ مالی سال کے لیے سندھ کا ہدف 6 ارب روپے اور پنجاب کا ہدف 12.5 ارب روپے بتایا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق صوبائی حکام نے ڈیٹا شیئرنگ اور ٹیکس انتظامیہ کی ڈیجیٹلائزیشن میں پیش رفت سے بھی مشن کو آگاہ کیا۔
وفاقی بورڈ آف ریونیو کے سالانہ ہدف اور گزشتہ مالی سال کی کمی بھی مذاکرات کا حصہ رہی۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایف بی آر نے ڈیجیٹل انوائسنگ اور پیداواری لائنوں کی نگرانی سمیت اہم کارکردگی اہداف پورے کرنے کا عزم ظاہر کیا، تاہم سالانہ وصولی کے مجموعی ہدف پر علاقائی سلامتی اور معیشت کے اثرات کا حوالہ دیا گیا۔ آئی ایم ایف پروگرام کے آئندہ مراحل کے لیے ان اعداد و شمار کی وضاحت اور قابل تصدیق مالیاتی ریکارڈ اہم ہوں گے، کیونکہ بنیادی سرپلس، ٹیکس وصولی اور صوبائی مالیات جائزے کے مرکزی نکات میں شامل ہیں۔
