مسلسل اپ ڈیٹس

پاکستان: موبائل فون مینوفیکچرنگ اور مقامی پرزہ سازی کے چیلنجز

PRIME کی پالیسی بریف کے مطابق پاکستان میں موبائل فون اسمبلی کے پھیلاؤ کے باوجود مقامی ویلیو ایڈیشن صرف 10 تا 15 فیصد تک محدود ہے جب کہ جون 2023 تک 49 فیصد ہدف رکھا گیا تھا۔ بریف نے ٹیرف ساخت کو بنیادی رکاوٹ قرار دیا: مکمل ناک ڈاؤن (CKD) کٹس کے پرزوں پر کسٹمز ڈیوٹی صفر ہے جبکہ انہی پرزوں کو ملکی طور پر بنانے کے لیے درکار خام مال اور درمیانی مصنوعات پر 20–30 فیصد ڈیوٹی لاگو ہوتی ہے، جس کی وجہ سے درآمدی کٹس سستی پڑتی ہیں۔ کسٹمز ڈیٹا کے مطابق مالی سال 2025‑26 میں موبائل فون متعلقہ درآمدات تقریباً 520 ارب روپے تھیں جن میں تقریباً 420 ارب روپے اسمبلی کے لیے درآمدی کٹس پر مشتمل تھے؛ رپورٹ میں 35 سے زیادہ پلانٹس، تقریباً 40 ہزار ملازمتیں اور تقریباً 30 کروڑ ڈالر سرمایہ کاری کا حوالہ بھی دیا گیا ہے۔ PRIME نے مراعات کو قابلِ تصدیق مقامی ویلیو ایڈیشن، پیداوار اور برآمدات سے منسلک کرنے اور مہنگے درآمدی فونز پر ٹیکس ڈھانچے کا جائزہ لینے کی سفارش کی ہے؛ مجوزہ موبائل اینڈ الیکٹرانک ڈیوائسز مینوفیکچرنگ پالیسی 2026–33 میں مقامی پرزہ سازی، ٹیکنالوجی منتقلی اور برآمدات پر زور دیا گیا ہے۔

1 خبریںاہم موضوعآخری خبر:

خبروں کا تسلسل · تازہ ترین پہلے