پاکستان میں موبائل فون اسمبلی کے تیز پھیلاؤ کے باوجود مقامی سطح پر پرزہ جات کی تیاری اور ویلیو ایڈیشن 10 سے 15 فیصد کے درمیان محدود ہے۔ ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق پالیسی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ آف مارکیٹ اکانومی، PRIME، کی نئی بریف میں کہا گیا ہے کہ موبائل ڈیوائس مینوفیکچرنگ پالیسی 2020 نے متعدد عالمی برانڈز کو پاکستان میں اسمبلی پلانٹس لگانے کی طرف راغب کیا، لیکن مقامی سپلائی چین بنانے کا اگلا مرحلہ مطلوبہ رفتار سے آگے نہیں بڑھ سکا۔

پالیسی کے تحت جون 2023 تک مقامی ویلیو ایڈیشن کا ہدف 49 فیصد رکھا گیا تھا، مگر صنعت کے ذرائع کے مطابق حقیقی سطح اب بھی 10 سے 15 فیصد ہے۔ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ میں کہا گیا کہ 35 سے زیادہ مینوفیکچررز نے ملک میں پلانٹس قائم کیے اور تقریباً 40 ہزار ملازمتیں پیدا ہوئیں۔ فروری 2023 تک 31 کمپنیوں کو مینوفیکچرنگ اجازت نامے مل چکے تھے اور تقریباً 30 کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری آئی تھی۔

بریف نے ایک بنیادی مسئلہ الٹی ٹیرف ساخت کو قرار دیا۔ مکمل طور پر ناک ڈاؤن یعنی CKD کٹس کے ساتھ درآمد ہونے والے چارجرز، بیٹریاں، کیبلز اور مدربورڈز پر کسٹمز ڈیوٹی صفر ہے، جبکہ انہی اشیا کو پاکستان میں بنانے کے لیے درکار خام مال اور درمیانی مصنوعات پر 20 سے 30 فیصد تک ڈیوٹی عائد ہوتی ہے۔ صنعت کے مطابق اس فرق سے مقامی پرزہ سازی کے مقابلے میں تیار پرزے درآمد کرنا سستا پڑتا ہے۔

کسٹمز ڈیٹا کے مطابق مالی سال 2025-26 میں موبائل فون سے متعلق درآمدات پر تقریباً 520 ارب روپے خرچ ہوئے، جن میں تقریباً 420 ارب روپے مقامی اسمبلی کے لیے درآمدی کٹس پر مشتمل تھے۔ PRIME نے سفارش کی ہے کہ مراعات کو قابل تصدیق مقامی ویلیو ایڈیشن، پیداوار اور برآمدی کارکردگی سے منسلک کیا جائے اور مہنگے درآمدی فونز پر ٹیکس ڈھانچے پر بھی نظرثانی کی جائے۔

مجوزہ موبائل اینڈ الیکٹرانک ڈیوائسز مینوفیکچرنگ پالیسی 2026-33 میں مقامی پرزہ سازی، ٹیکنالوجی منتقلی اور برآمدات پر زیادہ زور دینے کی بات کی گئی ہے۔ تاہم یہ اہداف اسی صورت عملی نتائج دے سکتے ہیں جب ٹیرف پالیسی مقامی پیداوار کے لیے معاشی ترغیب پیدا کرے اور مراعات صرف اسمبلی کی تعداد کے بجائے حقیقی مقامی صنعتی صلاحیت میں اضافے سے جوڑی جائیں۔