ڈیولپنگ ایٹ (ڈی ایٹ) آرگنائزیشن فار اکنامک کوآپریشن اور کمیشن آن سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فار سسٹین ایبل ڈیولپمنٹ اِن دی ساؤتھ (کامسیٹس) نے سائنس، ٹیکنالوجی، جدت اور پائیدار ترقی کے شعبوں میں ادارہ جاتی تعاون بڑھانے کے لیے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے ہیں۔ ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان کے مطابق معاہدے پر ڈی ایٹ کے سیکریٹری جنرل سفیر سہیل محمود اور کامسیٹس کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر سفیر ڈاکٹر محمد نفیس زکریا نے ورچوئل تقریب میں دستخط کیے۔
مفاہمتی یادداشت میں تعاون کے چھ وسیع ترجیحی شعبے مقرر کیے گئے ہیں۔ ان میں زراعت اور غذائی تحفظ، ڈیجیٹل تبدیلی، سائبر سکیورٹی اور انفارمیشن و کمیونیکیشن ٹیکنالوجیز، موسمیاتی تبدیلی اور ماحولیاتی پائیداری، توانائی کا تحفظ، صنعت اور صحت عامہ شامل ہیں۔ دونوں ادارے ان شعبوں میں مشترکہ تحقیق و ترقی، صلاحیت سازی، ماہرین اور سائنس دانوں کے تبادلوں، ٹیکنالوجی منتقلی اور علمی اشتراک کے امکانات تلاش کریں گے۔
معاہدے کے تحت مشترکہ کاروباری ترقی کی سرگرمیوں، ورکشاپس اور تربیتی پروگراموں کی گنجائش بھی رکھی گئی ہے۔ سہیل محمود نے تقریب میں کہا کہ ترقی پذیر ممالک کی اقتصادی مسابقت، پائیدار ترقی اور مشکلات کے مقابلے کی صلاحیت کے لیے سائنس، ٹیکنالوجی اور جدت کی اہمیت بڑھ رہی ہے۔ ان کے مطابق شراکت داری کا مقصد سائنسی علم اور تکنیکی مہارت کو رکن ممالک کی عملی ترقیاتی ضروریات سے جوڑنا ہے۔
نفیس زکریا نے کامسیٹس کے بین الاقوامی نیٹ ورک کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ ادارے میں ایشیا، افریقہ، لاطینی امریکا اور کیریبین کے 27 رکن ممالک شامل ہیں اور اس کے ساتھ 25 مراکزِ امتیاز کا نیٹ ورک منسلک ہے۔ ڈی ایٹ اور کامسیٹس کے چھ مشترکہ رکن ممالک بنگلہ دیش، مصر، ایران، نائجیریا، پاکستان اور ترکیہ ہیں، جسے دونوں اداروں نے مشترکہ منصوبوں کے لیے ایک موجود ادارہ جاتی بنیاد قرار دیا۔
دونوں تنظیموں نے معاہدے پر عمل درآمد کے لیے فوکل پرسنز بھی نامزد کیے ہیں۔ مفاہمتی یادداشت تعاون کا فریم ورک فراہم کرتی ہے، تاہم اس سے کسی مخصوص تحقیقاتی منصوبے، مالی رقم یا ٹیکنالوجی منتقلی کے فوری آغاز کی خودکار ضمانت نہیں ہوتی۔ عملی نتائج کا انحصار ان مشترکہ منصوبوں اور پروگراموں پر ہوگا جن پر دونوں ادارے آئندہ اتفاق کرکے عمل درآمد کرتے ہیں۔
