عالمی بینک نے پاکستان میں نوجوانوں کی ڈیجیٹل مہارتیں بڑھانے اور فری لانسنگ کے شعبے کو فروغ دینے کے لیے تکنیکی اور مالی معاونت جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ ریڈیو پاکستان کے مطابق یہ پیش رفت وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن شزا فاطمہ خواجہ اور عالمی بینک کے نائب صدر عثمان ڈیون کے درمیان جنوبی کوریا میں ہونے والی ملاقات کے دوران سامنے آئی۔
ملاقات میں پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت، ای گورننس اور ملک کے انفارمیشن ٹیکنالوجی انفراسٹرکچر کو مضبوط بنانے کے اقدامات پر توجہ مرکوز رہی۔ دونوں جانب سے اس بات پر تبادلہ خیال کیا گیا کہ نوجوانوں کو قابلِ استعمال ڈیجیٹل مہارتیں فراہم کرکے انہیں مقامی اور عالمی آن لائن روزگار کی منڈیوں سے بہتر طور پر جوڑا جا سکتا ہے۔
عالمی بینک نے نوجوانوں کے لیے ڈیجیٹل اسکلز کی توسیع اور فری لانسنگ سیکٹر کے فروغ میں تکنیکی اور مالی تعاون جاری رکھنے کی یقین دہانی کرائی۔ دستیاب سرکاری رپورٹ میں کسی نئے مخصوص قرض، گرانٹ کی رقم یا منصوبے کے مالی حجم کا اعلان نہیں کیا گیا، اس لیے اس پیش رفت کو تعاون کے تسلسل کے عزم کے طور پر بیان کرنا زیادہ درست ہے، نہ کہ کسی نئے مالی پیکیج کی منظوری کے طور پر۔
شزا فاطمہ خواجہ نے جنوبی کوریا کے دورے کے دوران ٹیکنالوجی ادارے DeltaX کا بھی دورہ کیا، جہاں پاکستان میں مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل مارکیٹنگ کے فروغ سے متعلق تفصیلی گفتگو ہوئی۔ یہ رابطے حکومت کی اس وسیع پالیسی ترجیح سے منسلک ہیں جس میں آئی ٹی برآمدات، ڈیجیٹل خدمات، نوجوانوں کی تربیت اور سرکاری خدمات کی ڈیجیٹلائزیشن کو معاشی مواقع کے ساتھ جوڑنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
پاکستان میں نوجوانوں کی بڑی آبادی اور فری لانسنگ کی موجودہ سرگرمی کے باعث ڈیجیٹل مہارتوں کی تربیت روزگار اور خدمات کی برآمد دونوں کے لیے اہم سمجھی جاتی ہے۔ تاہم تربیتی پروگراموں کے حقیقی اثرات کا انحصار نصاب کے معیار، انٹرنیٹ اور آلات تک رسائی، مارکیٹ کی ضروریات سے مطابقت اور تربیت کے بعد روزگار یا کاروباری مواقع تک رسائی پر ہوگا۔
عالمی بینک اور پاکستانی حکام کے درمیان یہ رابطہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ ڈیجیٹل انفراسٹرکچر اور انسانی سرمایہ دونوں تعاون کے ایجنڈے میں شامل ہیں۔ آئندہ مرحلے میں متعلقہ اداروں کی جانب سے منصوبوں، فنڈنگ اور نفاذ کی تفصیلات سامنے آنے پر تعاون کے عملی حجم اور ہدف کا زیادہ واضح اندازہ ہوسکے گا۔

