دنیا بھر میں وسیع پیمانے پر استعمال ہونے والی پی ایچ پی پروگرامنگ زبان میں سنگین سکیورٹی خامیوں کے انکشاف کے بعد یورپ اور دیگر خطوں کے متعدد سرکاری اداروں نے احتیاطی طور پر اپنی ویب سائٹس عارضی طور پر آف لائن کردیں۔ ڈان میں شائع رائٹرز رپورٹ کے مطابق پی ایچ پی کے ڈویلپرز نے دو اہم vulnerabilities کی نشاندہی کے بعد صارفین کو فوری طور پر تازہ ورژن پر اپ ڈیٹ کرنے کی ہدایت کی ہے۔
رپورٹ کے مطابق خامیاں کئی برس سے سافٹ ویئر میں موجود تھیں اور مصنوعی ذہانت کی مدد سے کیے گئے سکیورٹی تجزیے میں سامنے آئیں۔ ان کے انکشاف کے بعد یہ اطلاعات بھی آئیں کہ حملہ آور بعض ویب سائٹس میں نقب لگانے کے لیے کمزوریوں سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اسی خطرے کے پیش نظر نیدرلینڈز اور فن لینڈ سمیت بعض ملکوں کے سرکاری اداروں نے فکس دستیاب ہونے سے پہلے اپنی ویب سروسز بند کرنا زیادہ محفوظ سمجھا۔
پی ایچ پی ویب سرورز اور مواد کے انتظام کے نظاموں میں بڑے پیمانے پر استعمال ہوتی ہے، اس لیے بنیادی زبان میں سنگین خامی کا اثر ایک کمپنی یا ایک ملک تک محدود نہیں رہتا۔ تاہم ہر پی ایچ پی استعمال کرنے والی ویب سائٹ لازماً متاثر نہیں ہوتی؛ خطرے کی سطح استعمال ہونے والے ورژن، سرور کی ترتیب، حفاظتی اقدامات اور حملہ آور کی رسائی پر منحصر ہوتی ہے۔
ڈویلپرز نے بدھ کو ایسا نیا ورژن جاری کیا جس میں رپورٹ شدہ خامیوں کی اصلاح شامل ہے اور تمام صارفین کو فوری اپ گریڈ کی ترغیب دی گئی۔ سکیورٹی ماہرین کے لیے اگلا مرحلہ صرف پیچ نصب کرنا نہیں بلکہ لاگز اور سرور سرگرمی کا جائزہ لینا بھی ہے تاکہ یہ معلوم ہوسکے کہ اصلاح سے پہلے کسی نظام تک غیر مجاز رسائی تو نہیں ہوئی۔
سرکاری ویب سائٹس کو عارضی طور پر بند کرنے کا فیصلہ بنیادی طور پر احتیاطی اقدام تھا اور اسے اس بات کا ثبوت نہیں سمجھا جا سکتا کہ ہر متعلقہ سرکاری نظام کامیاب سائبر حملے کا شکار ہوا۔ واقعے نے ایک بار پھر اس ضرورت کو نمایاں کیا ہے کہ وسیع پیمانے پر استعمال ہونے والے اوپن سورس سافٹ ویئر کے لیے تیز پیچ مینجمنٹ، مسلسل نگرانی اور مربوط vulnerability disclosure نظام برقرار رکھا جائے۔
