مسلسل اپ ڈیٹس

پاکستان: شہری موبیلیٹی انڈیکس — پبلک ٹرانسپورٹ کی کم موجودگی (اکتوبر 2026)

BusCaro اور Pakistan & Counting Mobility Index کے جاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں گاڑیوں پر مبنی مجموعی وزن میں پبلک ٹرانسپورٹ کا حصہ 0.5 فیصد سے بھی کم ہے جب کہ نجی موٹر سائیکلیں، کاریں اور رکشے مجموعی وزن کا 98.7 فیصد بنتے ہیں۔ انڈیکس نے مئی تا ستمبر میں ایک کلومیٹر سفر کی اوسط لاگت 10.48 روپے سے کم ہو کر 9.65 روپے فی کلومیٹر ریکارڈ کی، جس کی واضح وجہ نجی گاڑیوں کے ایندھن کے اخراجات میں تبدیلی بتائی گئی ہے۔ رپورٹ نے پبلک ٹرانسپورٹ کے فی سیٹ کلومیٹر قیمت میں مئی تا ستمبر 77 فیصد اضافہ (1.22 روپے سے 2.16 روپے) ظاہر کیا جو بنیادی طور پر پنجاب میں میٹرو بس، بس ریپڈ ٹرانزٹ اور اورنج لائن کی عارضی مفت سہولت ختم ہونے کے بعد کرایوں کی بحالی سے مربوط ہے۔ انڈیکس پاکستان اکنامک سروے کے اعداد کے مطابق ملک میں تقریباً 3 کروڑ 67 لاکھ گاڑیاں شمار کرتا ہے — جن میں تقریباً 3 کروڑ 3 لاکھ موٹر سائیکلیں اور 51 لاکھ کاریں شامل ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ موجودہ بس فلیٹ تقریباً دو ہزار ہے اور صنعتی ماہرین نے سالانہ طلب 18 ہزار تا 20 ہزار بسوں تک کا تخمینہ دیا، اور ماہرین نے مربوط طویل مدتی بس پالیسی، الیکٹرک بس فلیٹس اور مقامی بس مینوفیکچرنگ کی ضرورت پر زور دیا۔ ان نتائج نے شہری منصوبہ بندی، پبلک ٹرانسپورٹ میں سرمایہ کاری اور مقامی صنعتی صلاحیت کے مسائل کو مشترکہ پالیسی چیلنج کے طور پر اجاگر کیا ہے۔

1 خبریںاہم موضوعآخری خبر:

خبروں کا تسلسل · تازہ ترین پہلے

پاکستان: شہری موبیلیٹی انڈیکس — پبلک ٹرانسپورٹ کی کم موجودگی (اکتوبر 2026) | اردو ہیڈ لائنز