کراچی: پاکستان میں شہری نقل و حرکت کے نئے انڈیکس نے پبلک ٹرانسپورٹ کی انتہائی محدود موجودگی کی نشاندہی کی ہے۔ BusCaro اور Pakistan & Counting Mobility Index کے مطابق گاڑیوں پر مبنی مجموعی وزن میں پبلک ٹرانسپورٹ کا حصہ 0.5 فیصد سے بھی کم ہے، جبکہ نجی موٹر سائیکلیں، کاریں اور رکشے 98.7 فیصد وزن رکھتے ہیں۔
جمعرات کو جاری کیے گئے انڈیکس میں آٹھ مختلف ذرائع نقل و حمل کے ذریعے ایک کلومیٹر سفر کی اوسط لاگت کا جائزہ لیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق مئی سے ستمبر کے درمیان یہ اوسط لاگت 7.9 فیصد کم ہو کر 10.48 روپے سے 9.65 روپے فی کلومیٹر رہ گئی۔ تاہم یہ کمی بنیادی طور پر نجی گاڑیوں کے ایندھن سے متعلق اخراجات میں تبدیلی کی عکاسی کرتی ہے، جبکہ پبلک ٹرانسپورٹ کی دستیابی اور استعمال اب بھی محدود ہے۔
انڈیکس پاکستان اکنامک سروے 2024-25 کے اعداد کے مطابق 3 کروڑ 67 لاکھ گاڑیوں کو شمار کرتا ہے، جن میں تقریباً 3 کروڑ 3 لاکھ موٹر سائیکلیں اور 51 لاکھ کاریں شامل ہیں۔ آٹو ماہر مشہود علی خان کے مطابق ایسے ملک میں جہاں ایک ہزار افراد میں سے تقریباً 22 ہی کار خریدنے کی استطاعت رکھتے ہیں، بس پر مبنی پبلک ٹرانسپورٹ زیادہ بڑے طبقے کو کم لاگت پر نقل و حرکت فراہم کر سکتی ہے۔
رپورٹ میں پبلک ٹرانسپورٹ کے فی سیٹ کلومیٹر جزو میں مئی سے ستمبر تک 77 فیصد اضافہ، 1.22 روپے سے 2.16 روپے، دکھایا گیا۔ تاہم اس اضافے کی بڑی وجہ پنجاب میں میٹرو بس، بس ریپڈ ٹرانزٹ اور اورنج لائن کی عارضی مفت سفری سہولت ختم ہونے کے بعد کرایوں کی بحالی بتائی گئی ہے؛ اسے محض آپریٹنگ لاگت میں 77 فیصد اضافے کے طور پر پڑھنا درست نہیں ہوگا۔
ماہرین نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان مربوط طویل مدتی بس پالیسی، الیکٹرک بس فلیٹس اور مقامی بس مینوفیکچرنگ کی ضرورت پر زور دیا۔ ایک تخمینے کے مطابق موجودہ بس فلیٹ تقریباً دو ہزار ہے جبکہ سالانہ طلب 18 ہزار سے 20 ہزار بسوں تک ہو سکتی ہے۔ یہ تخمینہ صنعت کے ماہر کا ہے، سرکاری طلب کا حتمی شمار نہیں۔
انڈیکس کے نتائج پبلک ٹرانسپورٹ میں سرمایہ کاری، شہری منصوبہ بندی اور مقامی صنعتی صلاحیت کو ایک مشترکہ پالیسی مسئلے کے طور پر سامنے لاتے ہیں۔
