لاہور: پاکستان ایسوسی ایشن آف آٹوموٹیو پارٹس اینڈ ایکسیسریز مینوفیکچررز (PAAPAM) نے وزیراعظم شہباز شریف سے مسودہ آٹو پالیسی 2026-31 پر نظرثانی کا مطالبہ کیا ہے۔ تنظیم کا مؤقف ہے کہ مکمل تیار شدہ گاڑیوں پر ٹیرف میں مجوزہ کمی، نئی توانائی کی گاڑیوں کے لیے رعایتیں اور آٹو پارٹس پر کم ڈیوٹی مقامی مینوفیکچرنگ اور روزگار پر منفی اثر ڈال سکتی ہیں۔

23 اکتوبر کو وزیراعظم کو لکھے گئے خط میں پاپام کے چیئرمین عبدالرحمن اعزاز نے دعویٰ کیا کہ مقامی سپلائی چین میں 1,200 سے زیادہ کمپنیاں، تقریباً 15 لاکھ ملازمتیں، سالانہ 1.8 ارب ڈالر کی درآمدی متبادل پیداوار اور اسمبلرز کو فراہم کیے جانے والے تقریباً 700 ارب روپے کے مقامی پرزے شامل ہیں۔ تنظیم نے پالیسی حتمی ہونے سے پہلے وزیراعظم سے ملاقات اور متبادل تجاویز پیش کرنے کی درخواست کی ہے۔

یہ اعداد اور روزگار کو لاحق خطرے کا تخمینہ پاپام کا دعویٰ ہے، حکومت کی حتمی finding نہیں۔ مجوزہ پالیسی پر صنعت کے اندر مختلف مفادات موجود ہیں۔ درآمد کنندگان اور زیادہ مقابلے کے حامی کاروبار کم تجارتی رکاوٹوں کی حمایت کرتے ہیں، جبکہ مقامی اسمبلرز اور پرزہ سازوں کو خدشہ ہے کہ سستی درآمدات سے مقامی پیداوار اور پہلے سے کی گئی سرمایہ کاری متاثر ہو سکتی ہے۔

مسودہ پالیسی میں ٹیرف کو مرحلہ وار کم کرنے، صاف توانائی کی گاڑیوں کے لیے ترجیحی ٹیکس شرحیں اور برآمدی اہداف شامل بتائے گئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق بیٹری الیکٹرک گاڑیوں کے لیے ایک فیصد، رینج ایکسٹینڈڈ الیکٹرک گاڑیوں کے لیے چھ فیصد اور پلگ اِن ہائبرڈز کے لیے نو فیصد ترجیحی سیلز ٹیکس کی تجاویز زیر غور ہیں، تاہم یہ ابھی منظوری کے مراحل سے مشروط ہیں۔ پالیسی 2030-31 تک گاڑیوں اور آٹو پارٹس کی مجموعی چھ ارب ڈالر برآمدات کا ہدف بھی رکھتی ہے۔

حکومت کے لیے بنیادی چیلنج صارفین کو مسابقت اور نسبتاً کم قیمتوں کا فائدہ دینے کے ساتھ مقامی ویلیو ایڈیشن، روزگار، ٹیکنالوجی منتقلی اور برآمدی صلاحیت کو برقرار رکھنا ہے۔ پاپام کی درخواست پر حکومت کا حتمی فیصلہ اور پالیسی کا منظور شدہ متن سامنے آنے کے بعد ہی واضح ہوگا کہ ٹیرف اور مراعات میں کیا تبدیلیاں کی جاتی ہیں۔