اسلام آباد: پاکستان پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن نے صارفین سے اپیل کی ہے کہ وہ ایندھن کی دستیابی سے متعلق خدشات کے باعث گھبراہٹ میں غیر معمولی مقدار میں پیٹرول یا ڈیزل نہ خریدیں، کیونکہ اچانک طلب بڑھنے سے پمپوں پر عارضی قلت اور مارکیٹ میں مزید بے ترتیبی پیدا ہوسکتی ہے۔ یہ اپیل ایسے وقت سامنے آئی ہے جب پیٹرولیم لیوی اور ایندھن کی قیمتوں کے معاملے پر جماعت اسلامی اور وفاقی حکومت کے درمیان مذاکرات جاری ہیں۔
ڈیلرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین نے کہا کہ قیمتوں اور کاروباری مارجن سے متعلق مسائل اپنی جگہ موجود ہیں، لیکن صارفین کی جانب سے ضرورت سے زیادہ خریداری سپلائی چین پر غیر ضروری دباؤ ڈال سکتی ہے۔ پمپوں پر معمول سے کئی گنا زیادہ طلب پیدا ہونے کی صورت میں مقامی سطح پر اسٹاک تیزی سے ختم ہوسکتا ہے، حالانکہ مجموعی سپلائی کی صورت حال اس سے مختلف ہو۔
جماعت اسلامی اور حکومت کے درمیان پیٹرولیم لیوی کم کرنے کے مطالبے پر ہونے والی بات چیت فوری نتیجے تک نہیں پہنچ سکی۔ جماعت اسلامی نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وزیراعظم کے ساتھ اسی ہفتے ملاقات کرائی جائے تاکہ لیوی، ایندھن کی قیمتوں اور صارفین پر پڑنے والے بوجھ کے بارے میں فیصلہ کن پیش رفت ہوسکے۔ حکومت اور جماعت کے درمیان مذاکرات کا عمل جاری رہنے کے باعث کسی حتمی کمی یا نئے فارمولے کا اعلان ابھی نہیں ہوا۔
پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں عالمی تیل، شرح مبادلہ، ٹیکسوں اور لیوی سمیت مختلف عوامل سے متاثر ہوتی ہیں۔ حالیہ عرصے میں بلند ایندھن لاگت نے ٹرانسپورٹ، صنعت اور گھریلو بجٹ پر دباؤ بڑھایا ہے، جس کی وجہ سے قیمتوں میں ممکنہ تبدیلی یا سپلائی سے متعلق افواہیں بھی صارفین کے رویے پر فوری اثر ڈال سکتی ہیں۔
پیٹرولیم ڈیلرز کی اپیل کا مرکزی نکتہ یہ ہے کہ صارفین اپنی معمول کی ضرورت کے مطابق خریداری کریں اور غیر مصدقہ اطلاعات کی بنیاد پر ذخیرہ نہ کریں۔ ایسوسی ایشن کے مطابق panic buying خود ایسی مقامی قلت پیدا کرسکتی ہے جو معمول کی خریداری کی صورت میں سامنے نہ آتی۔
پیٹرولیم لیوی پر سیاسی مذاکرات اور ڈیلرز کے کاروباری مطالبات الگ معاملات ہیں اور ان کے نتائج ابھی حتمی نہیں۔ اس لیے کسی ممکنہ ہڑتال، قیمت میں کمی یا سپلائی بند ہونے سے متعلق غیر مصدقہ دعوؤں کو سرکاری یا ایسوسی ایشن کے باقاعدہ اعلان کے بغیر حتمی سمجھنا درست نہیں ہوگا۔ آئندہ حکومتی مذاکرات اور قیمتوں کے باضابطہ فیصلے اس معاملے کی سمت واضح کریں گے۔

