اسلام آباد: وفاقی حکومت نے ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 1.91 روپے فی لیٹر اضافہ کردیا ہے، جس کے بعد نئی قیمت 393.66 روپے فی لیٹر ہوگئی۔ پیٹرول کی قیمت میں اس مرحلے پر کوئی تبدیلی نہیں کی گئی اور وہ 377.71 روپے فی لیٹر برقرار رہے گی۔ نئی قیمتیں حکومت کے حالیہ روزانہ ایندھن قیمتوں کے طریقہ کار کے تحت مقرر کی گئی ہیں۔

قیمتوں میں تبدیلی عالمی تیل منڈی، درآمدی لاگت، شرح مبادلہ، ٹیکسوں اور پیٹرولیم لیوی سمیت متعدد عوامل کو مدنظر رکھ کر کی جاتی ہے۔ ہائی اسپیڈ ڈیزل پاکستان کی مال برداری، بس ٹرانسپورٹ، زرعی مشینری اور صنعتی سرگرمیوں میں بڑے پیمانے پر استعمال ہوتا ہے، اس لیے اس کی قیمت میں معمولی اضافہ بھی ٹرانسپورٹ اور پیداوار کی لاگت پر اثر ڈال سکتا ہے۔

پیٹرول عام طور پر موٹر سائیکلوں، رکشوں اور نجی گاڑیوں میں زیادہ استعمال ہوتا ہے۔ حکومت کی جانب سے اس کی قیمت 377.71 روپے پر برقرار رکھنے سے فوری طور پر ان صارفین کے لیے نئی قیمت کا اضافہ نہیں ہوا، تاہم مجموعی ایندھن لاگت بلند سطح پر موجود ہے اور عالمی منڈی میں مشرق وسطیٰ کی کشیدگی کے باعث تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ جاری ہے۔

پاکستان میں ایندھن کی قیمتوں کا معاملہ اس وقت سیاسی بحث کا بھی مرکز ہے۔ جماعت اسلامی پیٹرولیم لیوی میں کمی کا مطالبہ کر رہی ہے جبکہ پیٹرولیم ڈیلرز نے صارفین سے گھبراہٹ میں غیر معمولی مقدار میں ایندھن خریدنے سے گریز کی اپیل کی ہے۔ حکومت نے دوسری جانب سپلائی کو مستحکم قرار دیا ہے، اگرچہ سینیٹ میں مستقبل کی دستیابی اور contingency planning کے بارے میں سوالات اٹھائے گئے ہیں۔

روزانہ یا مختصر وقفوں سے قیمتوں میں ردوبدل کا مقصد بین الاقوامی مارکیٹ کی تبدیلیوں کو نسبتاً جلد مقامی قیمتوں میں منتقل کرنا ہے، لیکن اس نظام کے تحت صارفین اور کاروباری اداروں کو زیادہ بار قیمتوں کی تبدیلی کا سامنا بھی ہوسکتا ہے۔ ڈیزل کی تازہ قیمت اسی فریم ورک میں طے کی گئی ہے۔

موجودہ نرخ اگلے باضابطہ حکومتی جائزے تک نافذ رہیں گے، اور آئندہ تبدیلی عالمی خام تیل کی قیمت، درآمدی پریمیم، روپے کی قدر اور حکومتی ٹیکس و لیوی پالیسی پر منحصر ہوگی۔ کسی مستقبل کی قیمت میں کمی یا اضافے کو متعلقہ سرکاری نوٹیفکیشن سے پہلے حتمی نہیں سمجھا جاسکتا۔