کراچی: چین کی جانب سے یوریا کی بین الاقوامی منڈی میں سپلائی دوبارہ بڑھنے کے بعد عالمی قیمتوں میں نمایاں کمی دیکھی گئی ہے اور نرخ تقریباً 450 ڈالر فی ٹن تک آگئے ہیں۔ حالیہ عرصے میں یوریا کی قیمت تقریباً 900 ڈالر فی ٹن کی بلند سطح تک پہنچی تھی، اس لیے موجودہ کمی کھاد درآمد کرنے والے ممالک کے لیے لاگت کے دباؤ میں اہم تبدیلی کی نمائندگی کرتی ہے۔
پاکستان میں یوریا گندم سمیت ربیع فصلوں کے لیے بنیادی زرعی ان پٹ ہے۔ مقامی پیداوار کے باوجود طلب و رسد میں فرق یا موسمی ضرورت کے وقت حکومت اور نجی شعبہ درآمدات کا سہارا لیتے ہیں۔ عالمی قیمت کم ہونے سے ممکنہ درآمدی بل میں کمی آسکتی ہے، لیکن کسان کو مقامی منڈی میں ملنے والی قیمت کا انحصار صرف بین الاقوامی نرخ پر نہیں بلکہ گیس کی قیمت، مقامی پیداوار، ٹیکس، نقل و حمل، ذخیرہ اندوزی اور تقسیم کے نظام پر بھی ہوتا ہے۔
چین عالمی کھاد مارکیٹ میں ایک بڑا سپلائر ہے اور اس کی برآمدی پالیسی میں تبدیلی سے بین الاقوامی نرخ تیزی سے متاثر ہوسکتے ہیں۔ چینی سپلائی محدود ہونے کے دوران قیمتوں پر اوپر کی جانب دباؤ رہا، جبکہ برآمدی دستیابی بہتر ہونے سے خریدار ممالک کو متبادل حجم ملنے لگا ہے۔ پاکستان کے لیے یہ پیش رفت ایسے وقت میں اہم ہے جب ربیع 2026-27 میں یوریا کی مجموعی ضرورت گزشتہ سیزن سے قدرے زیادہ رہنے کا تخمینہ ہے۔
زرعی شعبے میں کھاد کی بروقت دستیابی پیداوار کے لیے اتنی ہی اہم ہے جتنی اس کی قیمت۔ اگر کسان کو بوائی اور فصل کی بڑھوتری کے اہم مراحل پر یوریا نہ ملے تو کم استعمال یا تاخیر سے فی ایکڑ پیداوار متاثر ہوسکتی ہے۔ اسی لیے وفاقی اور صوبائی ادارے ربیع سیزن سے پہلے مقامی ذخائر، کارخانوں کی پیداوار، گیس فراہمی اور ممکنہ درآمدات کا جائزہ لیتے ہیں۔
عالمی قیمت میں کمی حکومت کے لیے بھی مالی سہولت پیدا کرسکتی ہے، خصوصاً اگر اضافی یوریا درآمد کرنے کی ضرورت پڑے۔ تاہم کرنسی کی شرح مبادلہ اور فریٹ لاگت درآمدی قیمت کو متاثر کرتی ہے، اس لیے 450 ڈالر فی ٹن کے عالمی نرخ کو براہ راست پاکستانی ریٹیل قیمت میں تبدیل نہیں کیا جاسکتا۔
کسانوں کے لیے اصل سوال یہ ہوگا کہ عالمی منڈی کی اس نرمی کا فائدہ مقامی دستیابی اور قیمت میں کس حد تک منتقل ہوتا ہے۔ ربیع سیزن میں گندم کی کاشت بڑھانے کے حکومتی ہدف کے ساتھ یوریا اور ڈی اے پی جیسی کھادوں کی مسلسل دستیابی اہم رہے گی۔ آئندہ ہفتوں میں درآمدی فیصلے، مقامی پلانٹس کی پیداوار اور ڈیلر سطح کی قیمتیں اس پیش رفت کے حقیقی اثرات واضح کریں گی۔

