اسلام آباد: ورلڈ بینک نے پاکستان پر زور دیا ہے کہ حالیہ معاشی استحکام کو پائیدار اور بلند شرح نمو میں تبدیل کرنے کے لیے سرمایہ کاری، نجی شعبے کی سرگرمی، برآمدی مسابقت اور ادارہ جاتی اصلاحات کو تیز کیا جائے۔ پاکستان ڈیولپمنٹ اپ ڈیٹ میں عالمی بینک نے کہا ہے کہ میکرو اکنامک استحکام ضروری بنیاد فراہم کرتا ہے، لیکن روزگار، آمدن اور پیداواری صلاحیت میں نمایاں بہتری کے لیے اصلاحات کی رفتار بڑھانا ناگزیر ہے۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان کی معاشی نمو موجودہ مالی سال میں تقریباً 4.2 فیصد رہنے کی توقع ہے۔ ورلڈ بینک نے نشاندہی کی کہ ملک میں سرمایہ کاری کی سطح طویل عرصے سے کم ہے، نجی شعبے کو پالیسی غیر یقینی، توانائی کی لاگت، مالی وسائل تک محدود رسائی اور پیچیدہ ضوابط سمیت متعدد رکاوٹوں کا سامنا ہے۔ ان مسائل کو حل کیے بغیر بلند اور مسلسل ترقی حاصل کرنا مشکل ہوگا۔
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے رپورٹ کے اجرا کے موقع پر سرمایہ کاروں کے اعتماد، پالیسی تسلسل اور نجی شعبے کی قیادت میں نمو کی ضرورت پر زور دیا۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ حالیہ استحکام کے بعد اگلا مرحلہ برآمدات، سرمایہ کاری اور پیداواری شعبوں میں توسیع ہونا چاہیے، تاکہ معیشت قرض اور کھپت پر مبنی مختصر دورانیے کے چکروں سے نکل سکے۔
ورلڈ بینک کے تجزیے میں کہا گیا ہے کہ اگر پاکستان اپنی پالیسیوں اور اداروں کو اوسط درمیانی آمدن والے ممالک کے معیار کے قریب لے آئے تو طویل مدت میں سالانہ شرح نمو 6 فیصد سے زیادہ ہوسکتی ہے۔ ادارے کے ایک تخمینے کے مطابق مضبوط اصلاحات کی صورت میں نمو 6.2 سے 6.9 فیصد تک پہنچنے کی گنجائش بن سکتی ہے اور 2050 تک فی کس آمدن میں نمایاں اضافہ ممکن ہے۔ یہ اعداد اصلاحات کے مفروضوں پر مبنی امکانات ہیں، ضمانت شدہ نتائج نہیں۔
رپورٹ میں ٹیکس نظام، سرکاری اخراجات، توانائی، ریاستی اداروں، کاروباری ماحول اور انسانی سرمائے سے متعلق اصلاحات کی اہمیت اجاگر کی گئی ہے۔ ورلڈ بینک کے مطابق پاکستان کو ایسے شعبوں میں وسائل منتقل کرنے کی ضرورت ہے جہاں پیداوار اور روزگار کی صلاحیت زیادہ ہو، جبکہ نجی سرمایہ کاری کے لیے مسابقتی اور قابل پیش گوئی ماحول پیدا کیا جائے۔
پاکستان کی معیشت ماضی میں تیز نمو کے مختصر ادوار کے بعد بیرونی ادائیگیوں کے دباؤ اور استحکام کی پالیسیوں کے چکر سے گزرتی رہی ہے۔ عالمی بینک کا تازہ پیغام اسی تاریخی مسئلے کو ہدف بناتا ہے: استحکام کو برقرار رکھتے ہوئے ایسی ساختی تبدیلیاں کی جائیں جو ترقی کو زیادہ وسیع، برآمدی اور نجی شعبے پر مبنی بنا سکیں۔

