مسلسل اپ ڈیٹس

بدر مفاہمتی یادداشت: پاکستان، ترکی، قطر اور انڈونیشیا کا چار ملکی دفاعی تعاون

دوحہ میں پاکستان، ترکی، قطر اور انڈونیشیا کے درمیان 'بدر' مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہوئے۔ پاکستان کی نمائندگی وزیرِ دفاع خواجہ محمد آصف نے کی جبکہ ترکی، قطر اور انڈونیشیا کی جانب سے بالترتیب یشار گولر، شیخ سعود بن عبدالرحمن اور یوسف جوہاری نے دستخط کیے؛ ترک دفاعی صنعت کے سربراہ ہالوک گورگن بھی تقریب میں موجود تھے۔ یادداشت دفاعی پیداوار، صنعتی تعاون، مشترکہ مشقیں، تربیت، تحقیق و ترقی، ٹیکنالوجی کی منتقلی، باہمی عملی مطابقت اور سپلائی چینز کے انضمام جیسے شعبوں میں تعاون بڑھانے کے لیے ایک وسیع فریم ورک فراہم کرتی ہے۔ دستیاب پاکستانی سرکاری معلومات محدود ہیں اور دفترِ خارجہ نے فوری تفصیلی بیان جاری نہیں کیا؛ دستاویز کسی مخصوص ہتھیار، مالی حجم یا لازمی مشترکہ فوجی کارروائی کی تفصیل ظاہر نہیں کرتی، اس لیے اسے فعلاً تعاون کے فریم ورک کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ یہ اقدام پاکستان-ترکی موجودہ دفاعی تعاون اور ترکی کے قطر و انڈونیشیا کے ساتھ روابط کو کثیرالملکی سطح پر منظم کرنے کی کوشش تصور کیا جا رہا ہے؛ آئندہ عملی منصوبوں اور اعلانات سے اس کے حقیقی اثرات واضح ہوں گے۔

3 خبریںاہم موضوعآخری خبر:

خبروں کا تسلسل · تازہ ترین پہلے

پاکستان، ترکیہ، قطر اور انڈونیشیا نے ’بدر‘ دفاعی تعاون کی مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے
دنیااہم خبر

پاکستان، ترکیہ، قطر اور انڈونیشیا نے ’بدر‘ دفاعی تعاون کی مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے

دوحہ میں چار ملکوں نے دفاعی پیداوار، صلاحیتوں، مشترکہ تربیت، مشقوں اور تحقیق و ترقی میں تعاون بڑھانے کے لیے ’بدر‘ مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے؛ پاکستان کی جانب سے وزیر دفاع خواجہ آصف نے دستخط کیے۔

21 اکتوبر، 2026
پاکستان، ترکی، قطر اور انڈونیشیا نے دفاعی تعاون کی 'بدر' مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے
دنیا

پاکستان، ترکی، قطر اور انڈونیشیا نے دفاعی تعاون کی 'بدر' مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے

ترک وزارت دفاع کے مطابق پاکستان، ترکی، قطر اور انڈونیشیا نے دوحہ میں بدر مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے ہیں، جس کا مقصد دفاعی پیداوار، تکنیکی تربیت اور تحقیق و ترقی میں چار ملکی تعاون بڑھانا ہے۔

21 اکتوبر، 2026