دوحہ: پاکستان، ترکیہ، قطر اور انڈونیشیا نے دفاعی تعاون اور دفاعی صنعتی صلاحیتیں بڑھانے کے لیے ایک کثیرملکی مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے ہیں۔ ترکیہ کی وزارت دفاع کے مطابق معاہدے کو ’بدر میمورنڈم آف انڈراسٹینڈنگ‘ کا نام دیا گیا ہے اور اس کا مقصد دفاعی تعاون کو منظم انداز میں وسعت دینا اور شریک ملکوں کی دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط بنانا ہے۔
دستخط کی تقریب قطر میں ہوئی۔ پاکستان کی نمائندگی وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کی، جبکہ ترکیہ کے وزیر دفاع یشار گولر، قطر کے نائب وزیراعظم و وزیر مملکت برائے دفاع شیخ سعود بن عبدالرحمن اور انڈونیشیا کے نائب وزیر دفاع یوسف جوہاری نے اپنے اپنے ملکوں کی جانب سے دستاویز پر دستخط کیے۔ ترکیہ کی دفاعی صنعت کے ادارے کے سربراہ ہالوک گورگن بھی تقریب میں موجود تھے۔
ترک وزارت دفاع کے مطابق مفاہمتی یادداشت میں دفاعی پیداوار اور صنعتی تعاون کے ساتھ مشترکہ فوجی مشقوں، تربیت، تحقیق و ترقی اور جدید دفاعی نظاموں سے متعلق تعاون کے امکانات شامل ہیں۔ ترکیہ کے متعلقہ حکام اس فریم ورک کو روایتی خرید و فروخت سے آگے مشترکہ پیداوار، ٹیکنالوجی کی منتقلی، باہمی عملی مطابقت اور سپلائی چینز کے انضمام کی سمت ایک قدم قرار دے رہے ہیں۔
معاہدے کے وقت دستیاب پاکستانی سرکاری معلومات محدود تھیں اور دفتر خارجہ نے فوری طور پر الگ تفصیلی بیان جاری نہیں کیا تھا۔ اس لیے مفاہمتی یادداشت کو کسی مخصوص ہتھیاروں کے سودے، مالی حجم یا لازمی مشترکہ فوجی کارروائی کے معاہدے کے طور پر پیش کرنا درست نہیں ہوگا۔ اب تک سامنے آنے والی تفصیلات اسے دفاعی صنعت اور صلاحیت سازی کے لیے تعاون کے ایک وسیع فریم ورک کے طور پر بیان کرتی ہیں۔
یہ پیش رفت ایسے وقت ہوئی ہے جب پاکستان اور ترکیہ کے درمیان دفاعی صنعت میں پہلے ہی بحری پلیٹ فارمز، تربیت اور دیگر منصوبوں پر تعاون موجود ہے، جبکہ قطر اور انڈونیشیا بھی ترکیہ کے ساتھ الگ الگ دفاعی صنعتی شراکت داریاں رکھتے ہیں۔ نیا چار ملکی فریم ورک ان موجودہ دوطرفہ روابط کو ایک کثیرملکی تعاون کی شکل دینے کی کوشش ہے۔
آئندہ مرحلے میں اصل اہمیت ان عملی منصوبوں کی ہوگی جو اس مفاہمتی یادداشت کے تحت طے پاتے ہیں۔ مشترکہ پیداوار، تحقیق، تربیت یا سپلائی چین کے کسی مخصوص منصوبے کی تفصیلات متعلقہ حکومتوں اور دفاعی اداروں کے بعد کے اعلانات سے واضح ہوں گی۔
