نائجیریا میں پہلی مرتبہ تصدیق ہونے والے ایبولا کیس کے وائرس کو بنڈی بگیو اسٹرین قرار دیا گیا ہے۔ نائجیریا سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن کے مطابق مریضہ ایک خاتون ہیں جو 3 اکتوبر کو یوگنڈا سے دارالحکومت ابوجا پہنچی تھیں۔ ہنگامی اجلاس میں حکام نے بتایا کہ مریضہ سفارتی ذمہ داری سے وابستہ ہیں اور ان کی طبی حالت بگڑ کر متعدد اعضا کی ناکامی تک پہنچ گئی ہے۔
نائجیریا کے پبلک ہیلتھ لیبارٹری سروس کی ڈائریکٹر اولاجوموکے باباتوندے کے مطابق تین سطحوں پر مالیکیولر ٹیسٹ کیے گئے اور ان میں بنڈی بگیو اسٹرین کی شناخت ہوئی۔ عالمی ادارہ صحت نے بھی اس اسٹرین کی تصدیق کی ہے۔ دستیاب معلومات کے مطابق اس مخصوص اسٹرین کے لیے فی الحال کوئی منظور شدہ مخصوص ویکسین یا مخصوص علاج موجود نہیں، جس کی وجہ سے مریضوں کی نگہداشت، انفیکشن کنٹرول اور رابطوں کی فوری شناخت اہم اقدامات بن جاتے ہیں۔
نائجیریا کے حکام نے مریضہ سے رابطے میں آنے والے 44 افراد کی نشاندہی کی ہے اور ان کی نگرانی جاری ہے، جبکہ مزید ممکنہ رابطوں کی تلاش بھی کی جا رہی ہے۔ عالمی ادارہ صحت نے کہا ہے کہ اس نجی اسپتال میں انفیکشن سے بچاؤ اور کنٹرول کے اقدامات بڑھائے جا رہے ہیں جہاں مریضہ نے علاج حاصل کیا تھا۔ یہ اقدامات بیماری کی ممکنہ منتقلی کی زنجیر کو محدود کرنے کے لیے کیے جا رہے ہیں۔
یہ کیس ایسے وقت سامنے آیا ہے جب جمہوریہ کانگو میں مئی کے وسط سے جاری ایبولا وبا کئی افریقی ممالک تک پھیل چکی ہے۔ صحت حکام کے اعدادوشمار کے مطابق کانگو میں 9,000 سے زیادہ تصدیق شدہ کیسز میں 4,381 اموات رپورٹ ہوئی ہیں، جبکہ یوگنڈا سمیت دوسرے ممالک میں بھی کیس سامنے آئے ہیں۔ افریقہ سی ڈی سی کے ڈائریکٹر جنرل ژاں کاسیا نے علاقائی صورت حال کو انتہائی سنگین خطرہ قرار دیا ہے اور کینیا میں بھی متعدد کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں۔
نائجیریا میں اس وقت تصدیق شدہ پیش رفت ایک مریضہ میں بنڈی بگیو ایبولا وائرس کی شناخت اور رابطوں کی نگرانی ہے۔ کسی وسیع مقامی وبا یا کمیونٹی ٹرانسمیشن کی تصدیق دستیاب رپورٹ میں نہیں کی گئی، اس لیے کیس کی شدت کو علاقائی خطرے کے تناظر میں بیان کرتے ہوئے نائجیریا کے اندر پھیلاؤ کے بارے میں غیر مصدقہ نتیجہ اخذ کرنا درست نہیں ہوگا۔

