انقرہ: ترکی مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت سعودی عرب میں فوجی اہلکار بھیجنے کی اجازت حاصل کرنے کے لیے پارلیمنٹ میں ایک مینڈیٹ پیش کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ حکمران اے کے پارٹی کے ایک رکن پارلیمنٹ نے رائٹرز کو بتایا کہ یہ اقدام پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان طے پانے والے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کی پارلیمانی توثیق کے بعد کیا جائے گا۔

مذکورہ قانون ساز نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا کہ مجوزہ تعیناتی جارحانہ فوجی کارروائیوں کے لیے نہیں ہوگی۔ ابتدائی طور پر تکنیکی اہلکار اور ماہرین فضائی دفاع، الیکٹرانک جنگی ٹیکنالوجی اور دیگر دفاعی معاونت کے شعبوں میں بھیجے جا سکتے ہیں۔ اس سے قبل ترک حکام نے بھی کہا تھا کہ انقرہ کا کردار فوجی سازوسامان، انٹیلی جنس شیئرنگ اور ہتھیاروں کے نظام تک محدود رہنے کی توقع ہے۔

ترکی نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ منگل کو پارلیمنٹ میں توثیق کے لیے پیش کیا تھا۔ یہ معاہدہ اگست میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان طے پایا تھا اور رکن ممالک کے درمیان باہمی دفاعی تعاون کا فریم ورک فراہم کرتا ہے۔ ترکی نیٹو کی دوسری بڑی فوج رکھتا ہے، اس لیے معاہدے میں اس کی عملی شمولیت خطے کے دفاعی توازن کے لیے اہم سمجھی جا رہی ہے۔

سعودی عرب کو حالیہ عرصے میں یمن کے حوثی گروپ کے حملوں اور بحیرہ احمر میں جہاز رانی کے خطرات کا سامنا ہے۔ ترکی نے حوثی حملوں کی مذمت کی ہے اور سعودی قیادت میں بحیرہ احمر کی جہاز رانی کے تحفظ کے لیے بننے والے انتظام میں شامل ہونے پر بھی اتفاق کیا ہے۔ ایسے حالات میں فضائی دفاع اور الیکٹرانک جنگی معاونت سعودی سلامتی کی ترجیحات سے براہ راست جڑی ہوئی ہے۔

تاہم مجوزہ پارلیمانی مینڈیٹ ابھی منظور نہیں ہوا اور اس کا انحصار پہلے دفاعی معاہدے کی توثیق پر ہے۔ اس لیے کسی ترک فوجی تعیناتی کو حتمی فیصلہ سمجھنا قبل از وقت ہوگا۔ موجودہ پیش رفت یہ ظاہر کرتی ہے کہ انقرہ معاہدے کو محض سیاسی عزم کے بجائے عملی دفاعی تعاون میں تبدیل کرنے کے قانونی مراحل تیار کر رہا ہے، جبکہ تعیناتی کی نوعیت اور تعداد بعد کے فیصلوں سے واضح ہوگی۔