سیول: شمالی کوریا نے اعلان کیا ہے کہ وہ اکتوبر کے اختتام تک جنوبی کوریا کے خلاف نفسیاتی جنگ کے لاؤڈ اسپیکر پوری بین الکوریائی سرحد پر فعال کر دے گا۔ شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن کی بااثر بہن کم یو جونگ نے سرکاری میڈیا کے ذریعے جاری بیان میں یہ اعلان کیا، جس سے پہلے ہی کشیدہ غیر فوجی علاقے میں تناؤ مزید بڑھنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔

کم یو جونگ نے کہا کہ شمالی کوریا کی ٹیکٹیکل اور فائر پاور یونٹس نئی سرحدی پوزیشنیں سنبھال رہی ہیں اور لاؤڈ اسپیکر کی تنصیب جنوبی کوریا کے اقدامات کے جواب میں کی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق انہوں نے شمالی کوریائی فوج کے مارشل پاک جونگ چون کے ساتھ سرحد کے مختلف مقامات کا دورہ کیا، جہاں قلعہ بندی کا کام جاری ہے۔

انہوں نے الزام لگایا کہ جنوبی کوریائی فورسز نے بدھ کو کم از کم دو مقامات پر لاؤڈ اسپیکر کے ذریعے انتباہ اور وارننگ فائر کیا۔ کم یو جونگ نے خبردار کیا کہ اگر ایسی فائرنگ سے شمالی کوریا کے اہلکاروں یا علاقے کو نقصان پہنچا تو سرحدی فوج جواب دے گی۔ جنوبی کوریا نے ایک روز قبل کہا تھا کہ وہ پیانگ یانگ کی مزید اشتعال انگیزی کا مضبوط جواب دے گا۔

یہ پیش رفت جنوبی کوریا کے صدر لی جے میونگ کی کشیدگی کم کرنے کی کوششوں کے لیے دھچکا سمجھی جا رہی ہے۔ ان کی حکومت نے گزشتہ سال شمالی کوریا کے خلاف نشریات روک کر مستقل لاؤڈ اسپیکر ہٹا دیے تھے۔ تاہم 2024 سے شمالی کوریا کی جانب سے سرحدی قلعہ بندی، بارودی سرنگوں اور دیگر فوجی اقدامات کے باعث اعتماد سازی محدود رہی ہے۔

دونوں کوریاؤں کے درمیان 1953 کی جنگ بندی کے بعد امن معاہدہ نہیں ہوا اور وہ تکنیکی طور پر اب بھی حالت جنگ میں ہیں۔ جنوبی کوریا کا کہنا ہے کہ اس سال ہزاروں شمالی کوریائی کارکن سرحدی تعمیرات میں مصروف رہے اور متعدد بار فوجی حد بندی لائن عبور کی گئی۔ پیانگ یانگ ان الزامات کو مسترد کرتا ہے۔ لاؤڈ اسپیکر کی واپسی ایسے وقت ہو رہی ہے جب دونوں جانب فوجی پیغامات اور سرحدی سرگرمیوں میں اضافہ کسی غلط اندازے کے خطرے کو بڑھا سکتا ہے۔