مسلسل اپ ڈیٹس

سپریم کورٹ: فوجداری مقدمات میں ضمانت اور استغاثہ کے بدلتے مؤقف

سپریم کورٹ نے کوئٹہ میں زائدِ المیعاد ادویات کی نقل و حمل سے متعلق ایک مقدمے میں استغاثہ کی جانب سے ایف آئی آر کی دفعات تبدیل کیے جانے پر نوٹس لیتے ہوئے کہا کہ اگر ملزم کی مبینہ شمولیت یا استغاثہ کے مؤقف/شواہد پر معقول شک ہو تو اسے ضمانت کے فائدے سے محروم نہیں کیا جانا چاہیے۔ جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے محمد اکبر کی ضمانت برقرار رکھی اور کہا کہ عدالت کے ضمانت سے متعلق مشاہدات عبوری نوعیت کے ہیں اور زیرِ سماعت مقدمے پر حتمی فیصلے کو متاثر نہیں کریں گے۔ عدالت نے بتایا کہ مقدمہ ابتدا میں پاکستان پینل کوڈ کی متعدد دفعات اور ڈرگز ایکٹ کی دفعات 23 اور 27 کے تحت درج تھا، اور بعد ازاں ایف آئی آر میں جعل سازی، دھوکا دہی، امانت میں خیانت اور انسداد بدعنوانی سے متعلق دفعات شامل کر دی گئیں جن کی بنیاد استغاثہ نے تسلی بخش انداز میں پیش نہ کی۔ عدالت نے نوٹ کیا کہ ضمانت ملنے کے باوجود درخواست گزار حراست میں رہا اور معاملہ ٹرائل کورٹ کو واپس بھیج دیا تاکہ الزامات اور شواہد کا حتمی تعین کیا جا سکے۔

1 خبریںاہم موضوعآخری خبر:

خبروں کا تسلسل · تازہ ترین پہلے