سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ اگر کسی فوجداری مقدمے میں ملزم کی مبینہ شمولیت، استغاثہ کے مؤقف یا پیش کیے جانے والے شواہد کے بارے میں معقول شک پیدا ہو تو ملزم کو ضمانت کے فائدے سے محروم نہیں کیا جانا چاہیے۔ عدالت نے یہ اصول کوئٹہ میں زائد المیعاد ادویات کی نقل و حمل سے متعلق ایک مقدمے میں استغاثہ کی جانب سے ایف آئی آر کی دفعات تبدیل کیے جانے کے معاملے پر جاری فیصلے میں بیان کیا۔

ڈان کے مطابق جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے محمد اکبر کی ضمانت برقرار رکھی۔ عدالت نے واضح کیا کہ ضمانت سے متعلق اس حکم میں کیے گئے مشاہدات عبوری نوعیت کے ہیں اور زیر سماعت مقدمے میں کسی فریق کے حتمی مؤقف یا ٹرائل کورٹ کے فیصلے کو متاثر نہیں کریں گے۔ عدالت کے نزدیک مقدمہ مزید انکوائری کا متقاضی تھا۔

مقدمہ ابتدا میں پاکستان پینل کوڈ کی متعدد دفعات اور ڈرگز ایکٹ 1976 کی دفعات 23 اور 27 کے تحت درج کیا گیا تھا اور الزام زائد المیعاد ادویات کی نقل و حمل سے متعلق تھا۔ سپریم کورٹ نے اپریل میں ملزم کو ضمانت دی، لیکن حکم پر عمل درآمد کے مرحلے میں سامنے آیا کہ استغاثہ نے ایف آئی آر میں پہلے شامل دفعات کو تبدیل کرکے جعل سازی، دھوکا دہی، امانت میں خیانت اور انسداد بدعنوانی قانون سے متعلق زیادہ سنگین دفعات شامل کردی تھیں۔

عدالت نے استغاثہ اور تفتیشی افسر سے پوچھا کہ نئی دفعات کس نئے ثبوت کی بنیاد پر شامل کی گئیں اور یہ تبدیلی پہلے ضمانت کی سماعت کے وقت عدالت کے سامنے کیوں نہیں لائی گئی۔ فیصلے کے مطابق حکام اس تبدیلی کی تسلی بخش وجہ پیش نہ کرسکے۔ عدالت نے استغاثہ کے بدلتے مؤقف کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے کہا کہ تحقیقات میں نیا مواد سامنے آنے پر دفعات شامل کی جا سکتی ہیں، لیکن یہ عمل من مانی بنیاد پر نہیں ہونا چاہیے۔

عدالت نے اس امر پر افسوس کا اظہار کیا کہ پہلے ضمانت ملنے کے باوجود درخواست گزار حراست میں رہا۔ فیصلے میں کہا گیا کہ ٹرائل کا مقصد زیر سماعت ملزم کو قانونی عمل کا سامنا کرانا ہے، نہ کہ مقدمے کے حتمی فیصلے سے پہلے اسے طویل قید کے ذریعے سزا دینا۔ عدالت نے ضمانت برقرار رکھتے ہوئے معاملہ ٹرائل کورٹ میں جاری رہنے دیا، جہاں الزامات اور شواہد کا حتمی تعین کیا جائے گا۔