سینیٹ کی قواعد، ضابطہ کار اور استحقاقات کمیٹی نے کراچی ایئرپورٹ پر مسافروں اور ارکان پارلیمان کی تلاشی کے دوران ایئرپورٹس سکیورٹی فورس کے اہلکاروں کے مبینہ نامناسب رویے پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے متعلقہ اہلکار اور دیگر افسران کو اگلے اجلاس میں طلب کرلیا ہے۔ کمیٹی کا اجلاس سینیٹر سید وقار مہدی کی زیر صدارت اسلام آباد میں ہوا۔

ڈان کے مطابق کمیٹی نے سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری کی جانب سے پیش کی گئی تحریک استحقاق پر اے ایس ایف کی انکوائری رپورٹ اور جواب کا جائزہ لیا۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ متعلقہ اہلکار کو اس کی سابق تعیناتی سے دوسری جگہ منتقل کیا جا چکا ہے۔ ارکان نے کہا کہ معاملہ صرف پارلیمان کے ارکان تک محدود نہیں بلکہ عام مسافروں کے ساتھ سکیورٹی چیکنگ کے دوران احترام اور قانونی طریقہ کار کا سوال بھی ہے۔

سینیٹر زہری نے مؤقف اختیار کیا کہ اہلکاروں کا مبینہ سخت یا نامناسب رویہ قابل تشویش ہے اور مسافروں کے سامان کی تلاشی قانون اور حقیقی سکیورٹی ضرورت کے مطابق ہونی چاہیے۔ انہوں نے متعلقہ اہلکار کو کمیٹی کے سامنے پیش ہو کر اپنے اقدامات اور قانونی اختیار کی وضاحت کرنے کا مطالبہ کیا۔ یہ الزامات تحریک استحقاق اور کمیٹی میں دیے گئے بیانات کا حصہ ہیں؛ متعلقہ اہلکار کا تفصیلی مؤقف ابھی کمیٹی کے سامنے آنا باقی ہے۔

کمیٹی کے چیئرمین نے متعلقہ اہلکار اور دیگر افسران کو اگلے اجلاس میں طلب کرنے کے ساتھ حکام کو ہدایت کی کہ ایئرپورٹ عملے کی پیشہ ورانہ تربیت کا انتظام کیا جائے تاکہ مسافروں کے ساتھ شائستگی، احترام اور قواعد کے مطابق برتاؤ یقینی بنایا جا سکے۔ یہ معاملہ جولائی میں سینیٹر زہری کے کراچی سے سفر کے دوران پیش آنے والے ایک واقعے سے متعلق ہے، جس پر ستمبر میں بھی کمیٹی نے انکوائری کی ہدایت کی تھی۔

اسی اجلاس میں کمیٹی نے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن اینڈ ڈیزائن سے متعلق ایک الگ استحقاق معاملے پر ذیلی کمیٹی بنانے اور پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز میں سہولیات کی صورت حال پر غیر اعلانیہ دورے کی ہدایت بھی کی۔ تاہم اے ایس ایف سے متعلق معاملے میں اگلا اہم مرحلہ متعلقہ اہلکار اور حکام کی کمیٹی کے سامنے پیشی اور ان کی وضاحت ہوگی۔