پشاور ہائیکورٹ نے خیبرپختونخوا اسمبلی کی ڈپٹی اسپیکر ثریا بی بی کی سرکاری رہائش گاہ کو عارضی طور پر ڈی سیل کرنے کا حکم دیا ہے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مزید عدالتی حکم تک انہیں گرفتار کرنے سے روک دیا ہے۔ یہ عبوری ہدایات جسٹس اعجاز انور اور جسٹس محمد فہیم ولی پر مشتمل دو رکنی بینچ نے ثریا بی بی کی درخواست کی سماعت کے دوران جاری کیں۔

ڈان کے مطابق درخواست میں ڈپٹی اسپیکر نے اپنی سرکاری رہائش گاہ سیل کیے جانے اور مینٹیننس آف پبلک آرڈر آرڈیننس کی دفعہ 3 کے تحت ممکنہ گرفتاری کو چیلنج کیا تھا۔ عدالت نے صوبائی حکومت، خیبرپختونخوا کے انسپکٹر جنرل پولیس اور دیگر متعلقہ حکام کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کیا ہے۔ سماعت کا تحریری حکم فوری طور پر جاری نہیں ہوا تھا، اس لیے موجودہ ہدایات کو عبوری عدالتی ریلیف کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

ثریا بی بی کے وکیل یاسر خٹک نے مؤقف اختیار کیا کہ ان کی موکلہ منتخب ڈپٹی اسپیکر ہیں اور قانون کے تحت اپنی مدت کے دوران سرکاری رہائش گاہ کی حق دار ہیں۔ انہوں نے عدالت کو بتایا کہ ریس کورس گارڈن پشاور میں رہائش گاہ انہیں جون 2024 کے نوٹیفکیشن کے ذریعے الاٹ کی گئی تھی۔ وکیل نے الزام لگایا کہ گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد پولیس نے بغیر قانونی جواز کے رہائش گاہ پر کارروائی کی اور اسے بند کردیا۔ یہ دعوے درخواست گزار کے مؤقف کا حصہ ہیں اور عدالت نے ابھی ان کی حتمی قانونی حیثیت طے نہیں کی۔

درخواست میں مؤقف اپنایا گیا کہ گورنر راج یا ایمرجنسی کا نفاذ بذات خود ڈپٹی اسپیکر کی سرکاری رہائش گاہ سیل کرنے کا اختیار نہیں دیتا۔ ثریا بی بی نے عدالت سے رہائش گاہ تک رسائی بحال کرنے، ذاتی و سرکاری دستاویزات تک رسائی دینے اور مبینہ غیرقانونی گرفتاری یا مداخلت سے تحفظ کی درخواست کی تھی۔

خیبرپختونخوا میں 11 اکتوبر کو ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ ہونے کے بعد صوبائی سیاسی و انتظامی صورت حال میں نمایاں تبدیلی آئی ہے اور متعدد سابق حکومتی عہدیداروں اور پی ٹی آئی رہنماؤں کے خلاف اقدامات ہوئے ہیں۔ ثریا بی بی کے خلاف سرکاری گاڑی واپس نہ کرنے کے الزام میں ایک مقدمہ بھی درج ہونے کی اطلاع ہے۔ پشاور ہائیکورٹ میں زیر سماعت موجودہ مقدمے کا حتمی نتیجہ فریقین کے جواب اور آئندہ سماعتوں کے بعد سامنے آئے گا۔