نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے لاہور میں ایک شخص کو گرفتار کیا ہے جس پر جعلی امریکی پوسٹیج لیبل فروخت کرنے کے ذریعے بڑے پیمانے پر آن لائن فراڈ میں ملوث ہونے کا الزام ہے۔ ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان اور ڈان کی 21 اکتوبر کی رپورٹس کے مطابق گرفتار شخص کی شناخت فہیم اکرم کے نام سے ہوئی ہے اور امریکی حکام بھی مبینہ فراڈ کے سلسلے میں اسے مطلوب قرار دیتے رہے ہیں۔
این سی سی آئی اے کے ایک اہلکار کے مطابق ملزم مبینہ طور پر ایک ویب سائٹ کے ذریعے جعلی امریکی ڈاک لیبل فروخت کرتا تھا۔ ایجنسی کا دعویٰ ہے کہ پانچ ملین سے زیادہ جعلی پوسٹیج لیبل آن لائن فروخت کیے گئے اور اس سرگرمی سے یونائیٹڈ اسٹیٹس پوسٹل سروس کو 126 ملین ڈالر سے زیادہ کا تخمینی نقصان پہنچا۔ پاکستانی روپے میں اس معاملے کا حجم تقریباً 35 ارب روپے بتایا گیا ہے۔ یہ تمام اعداد و شمار تفتیشی ادارے کے الزامات اور ابتدائی تحقیقات پر مبنی ہیں، اور کسی عدالت نے ابھی ملزم کو جرم کا مرتکب قرار نہیں دیا۔
ڈان کے مطابق ایک مجسٹریٹ نے ملزم کو پانچ روزہ جسمانی ریمانڈ پر این سی سی آئی اے لاہور کے حوالے کیا ہے تاکہ ایجنسی تحقیقات آگے بڑھا سکے۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ تفتیش کے دوران ملزم اور اس کے خاندان سے منسلک متعدد بینک اکاؤنٹس کی نشاندہی بھی کی گئی ہے۔ اکاؤنٹس یا رقوم کی موجودگی بذات خود جرم کا حتمی ثبوت نہیں، اور ان کا قانونی تعلق تفتیش اور عدالتی کارروائی میں طے ہوگا۔
این سی سی آئی اے کے ڈائریکٹر جنرل سید علی ناصر رضوی نے متعلقہ افسران کے ساتھ آپریشن کا جائزہ لیا اور سائبر جرائم، مالی فراڈ اور آن لائن اسکیموں کے خلاف کارروائیاں جاری رکھنے کی ہدایت کی۔ ادارے کے مطابق یہ گرفتاری بین الاقوامی نوعیت کے سائبر اور مالیاتی جرائم کی تحقیقات میں پاکستانی حکام کی کارروائی کا حصہ ہے۔
مقدمہ اب تفتیشی مرحلے میں ہے۔ جسمانی ریمانڈ کا مقصد شواہد جمع کرنا، مبینہ آن لائن نظام اور مالی لین دین کی جانچ کرنا اور ممکنہ ساتھیوں یا دیگر روابط کا تعین کرنا ہے۔ ملزم کے خلاف الزامات کی حتمی قانونی حیثیت عدالت میں شواہد، فرد جرم اور ٹرائل کے بعد ہی طے ہوگی۔
