اسلام آباد میں وزیراعظم کی جانب سے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) میں اصلاحات کے لیے قائم کمیٹی کا دوسرا اجلاس ہوا، جس میں ملک کے بڑے سرکاری ہسپتال کے انتظامی ڈھانچے، طبی خدمات اور گورننس بہتر بنانے کے لیے مجوزہ اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔ سرکاری خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان کے مطابق اجلاس میں وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال، وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ، وفاقی سیکریٹری صحت مومن علی آغا اور دیگر سینئر حکام شریک ہوئے۔

کمیٹی نے پمز میں جاری اصلاحاتی اقدامات کے ساتھ اس قانونی اور انتظامی فریم ورک کا جائزہ لیا جس کے ذریعے ہسپتال کے انتظام کو نئی ساخت دی جا سکتی ہے۔ اجلاس میں سفارش کی گئی کہ پمز کو ایک بورڈ آف گورنرز کے تحت چلایا جائے۔ اس کے ساتھ چیف ایگزیکٹو افسر کی تقرری اوپن مارکیٹ کے ذریعے کرنے اور بورڈ کے ارکان کے لیے تین سالہ مدت مقرر کرنے کی تجویز بھی سامنے آئی۔

APP کے مطابق وزیراعظم کی اصولی منظوری کے بعد مجوزہ گورننس فریم ورک قائم کرنے کے لیے قانون سازی کا مسودہ تیار کیا جائے گا۔ اس مرحلے پر یہ تجاویز حتمی قانون یا نافذ شدہ انتظامی نظام نہیں ہیں۔ قانون سازی کے مسودے کی تیاری، متعلقہ منظوریوں اور قانونی عمل کے بعد ہی یہ واضح ہوگا کہ بورڈ آف گورنرز کے اختیارات، سی ای او کی ذمہ داریاں، تقرری کا طریقہ اور موجودہ انتظامیہ کے ساتھ تعلق کس طرح متعین کیا جائے گا۔

پمز وفاقی دارالحکومت کا ایک بڑا سرکاری تدریسی اور علاج گاہ ہے جہاں اسلام آباد کے علاوہ ملک کے مختلف حصوں سے مریض آتے ہیں۔ اسی وجہ سے انتظامی کارکردگی، طبی سہولیات کی فراہمی اور فیصلہ سازی کے نظام میں تبدیلیاں براہ راست بڑی تعداد میں مریضوں اور طبی عملے سے متعلق ہیں۔ کمیٹی کی سفارشات کا بنیادی ہدف انتظامی جواب دہی اور ہسپتال کی خدمات بہتر بنانا بتایا گیا ہے۔

موجودہ پیش رفت کو اصلاحاتی عمل کے ایک پالیسی مرحلے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ کمیٹی نے گورننس کے نئے ڈھانچے کی سمت متعین کی ہے، لیکن عملی تبدیلی قانون سازی اور اس کے بعد ہونے والی تقرریوں اور قواعد پر منحصر ہوگی۔ آئندہ مسودہ قانون سامنے آنے پر یہ بھی واضح ہوگا کہ حکومت پمز کی مالی، انتظامی اور طبی خودمختاری کے لیے کون سی مخصوص قانونی دفعات تجویز کرتی ہے۔