مکمل کوریج

سپریم کورٹ کا فیصلہ: ٹرائل میں تاخیر کی صورت میں قانونی ضمانت کے تقاضے

سپریم کورٹ نے ’چوہدری شاہزیب شمیم بنام ریاست و دیگر‘ کے کیس میں قرار دیا ہے کہ قانونی مدت سے زائد ٹرائل تاخیر کی بنیاد پر بعد از گرفتاری ضمانت دیتے وقت عدالتیں یہ تعین کریں کہ تاخیر ملزم، اس کے وکیل یا اس کی جانب سے کام کرنے والے کسی شخص کے فعل یا کوتاہی سے ہوئی یا نہیں۔ عدالت نے ریکارڈ کی بنیاد پر پایا کہ اس مقدمے میں تاخیر ملزم یا اس کے وکیل کی وجہ سے ثابت نہیں ہوئی، اس لیے اسلام آباد ہائی کورٹ اور ٹرائل کورٹ کے فیصلے کالعدم کر دیے گئے۔ فیصلے میں دفعہ 497(1) کے تحت ایسی صورت میں ضمانت کے تقاضوں کی وضاحت کی گئی کہ اگر جرم کی سزا موت نہ ہو اور ملزم مسلسل ایک سال سے زائد حراست میں رہے، ٹرائل مکمل نہ ہو اور تاخیر اس کی اپنی وجہ نہ ہو تو قانون ضمانت کا حق فراہم کرتا ہے۔

1 خبریںآخری خبر:

خبروں کا تسلسل · تازہ ترین پہلے

سپریم کورٹ کا فیصلہ: ٹرائل میں تاخیر کی صورت میں قانونی ضمانت کے تقاضے | اردو ہیڈ لائنز