اسلام آباد: سپریم کورٹ آف پاکستان نے قانونی مدت سے زائد تاخیر کی بنیاد پر بعد از گرفتاری ضمانت کے ایک مقدمے میں تفصیلی وجوہات جاری کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ عدالتوں کے لیے یہ جانچنا ضروری ہے کہ ٹرائل کی تاخیر ملزم، اس کے وکیل یا اس کی جانب سے کام کرنے والے کسی شخص کے فعل یا کوتاہی سے ہوئی یا نہیں۔

تین رکنی بینچ کی سربراہی جسٹس جمال خان مندوخیل نے کی، جبکہ جسٹس نعیم اختر افغان اور جسٹس عقیل احمد عباسی بھی بینچ میں شامل تھے۔ فیصلہ ’چوہدری شاہزیب شمیم بنام ریاست و دیگر‘ کے مقدمے میں دیا گیا، جس میں درخواست گزار نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے 20 جولائی 2026 کے فیصلے کو چیلنج کیا تھا۔

مقدمہ تھانہ سہالہ، اسلام آباد میں 5 اپریل 2025 کو تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 489-F کے تحت درج ایف آئی آر سے متعلق تھا۔ درخواست گزار نے ضابطہ فوجداری کی دفعہ 497(1) کے تیسرے proviso کے تحت مؤقف اختیار کیا کہ اس کا ٹرائل ایک سال سے زائد عرصے سے مکمل نہیں ہوا، اس لیے وہ قانونی تاخیر کی بنیاد پر ضمانت کا حق دار ہے۔ ٹرائل کورٹ نے 3 جون 2026 کو درخواست مسترد کر دی تھی جبکہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے بھی بعد میں ریلیف نہیں دیا۔

سپریم کورٹ نے 24 ستمبر کو مختصر حکم میں اپیل منظور کرتے ہوئے نچلی عدالتوں کے فیصلے کالعدم کر دیے تھے، اور اب جاری کیے گئے نو صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلے میں اس کی وجوہات بیان کی گئی ہیں۔ جسٹس عقیل احمد عباسی کے تحریر کردہ فیصلے کے مطابق دستیاب عدالتی ریکارڈ سے یہ ثابت نہیں ہوا کہ ٹرائل میں تاخیر درخواست گزار یا اس کے وکیل کی وجہ سے ہوئی۔

فیصلے میں کہا گیا کہ ٹرائل کورٹ کی ڈائری شیٹس سے ظاہر ہوتا ہے کہ نہ ملزم نے اور نہ ہی اس کے وکیل نے التوا مانگا، جبکہ متعدد تاریخوں پر جیل حکام اسے پروڈکشن وارنٹس کے باوجود عدالت میں پیش نہ کر سکے۔ سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ محض یہ کہنا کافی نہیں کہ تاخیر صرف استغاثہ کی وجہ سے نہیں ہوئی؛ اصل قانونی سوال یہ ہے کہ کیا تاخیر ملزم یا اس کی جانب سے کسی شخص کے فعل یا کوتاہی سے ہوئی۔

عدالت نے دفعہ 497(1) کے متعلقہ قانونی معیار کا حوالہ دیتے ہوئے واضح کیا کہ ایسے جرم میں، جس کی سزا موت نہیں، اگر ملزم مسلسل ایک سال سے زائد حراست میں رہے، ٹرائل مکمل نہ ہو اور تاخیر اس کی اپنی وجہ سے نہ ہو، تو قانون اسے ضمانت کے حق کے طور پر دیکھتا ہے۔

اس مقدمے میں سپریم کورٹ نے یہ بھی نوٹ کیا کہ درخواست گزار متعلقہ جرم کے لیے مقرر زیادہ سے زیادہ ممکنہ قید کے عرصے کے برابر مدت حراست میں گزار چکا تھا۔ عدالتی فیصلے کا اہم اصول یہ ہے کہ قانونی تاخیر کی بنیاد پر ضمانت کے مقدمات میں ذمہ داری کا تعین ریکارڈ کی بنیاد پر کیا جائے اور تاخیر خودکار طور پر ملزم کے خلاف نہ ڈالی جائے۔