اسلام آباد: پاکستان کی وزارتِ اطلاعات و نشریات نے افغانستان کے صوبہ نورستان کے ضلع کامدیش میں جاری لڑائی سے متعلق افغان طالبان حکام کی جانب سے پاکستان پر عائد کیے گئے تازہ الزامات مسترد کر دیے ہیں۔ وزارت کے فیکٹ چیک اکاؤنٹ سے 30 ستمبر کو جاری بیان میں کہا گیا کہ طالبان حکام کی طرف سے نورستان کی لڑائی کو پاکستان سے منسوب کرنے والے بیانات بے بنیاد ہیں اور اسلام آباد ان دعوؤں کو قبول نہیں کرتا۔
یہ ردعمل ایسے وقت سامنے آیا جب نورستان کے کامدیش ضلع میں طالبان فورسز اور ان کے مسلح مخالفین کے درمیان جھڑپوں کی اطلاعات آئیں۔ دی ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق افغانستان انٹرنیشنل نے باخبر ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ 29 ستمبر کی صبح افغانستان فریڈم فرنٹ اور طالبان کے درمیان لڑائی دوبارہ شروع ہوئی۔ دوسری جانب افغان وزارتِ دفاع نے اپنی کارروائی کے اختتام کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ 41 افراد مارے گئے اور 62 کو حراست میں لیا گیا۔ ان اعدادوشمار کی آزادانہ تصدیق رپورٹ میں فراہم نہیں کی گئی۔
افغان طالبان کے سرحدی امور سے متعلق وزیر نوراللہ نوری نے بھی پاکستان کو تنقید کا نشانہ بنایا اور افغانستان کو غیر مستحکم کرنے کی کوششوں سے خبردار کیا۔ اس کے جواب میں پاکستانی وزارتِ اطلاعات نے کہا کہ نورستان میں داخلی لڑائی کو پاکستان سے جوڑنے کے الزامات افغان حکام کے اپنے داخلی مسائل سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہیں۔ بیان میں افغان طالبان حکومت پر بھی سخت سیاسی تنقید کی گئی، جسے پاکستانی وزارت کا موقف سمجھا جانا چاہیے، نہ کہ آزادانہ طور پر ثابت شدہ حقیقت۔
افغان حکام اس سے قبل بھی نورستان میں مسلح افراد کی دراندازی اور بعض جنگجوؤں کو پاکستانی مدد ملنے کے الزامات عائد کر چکے ہیں۔ ایسوسی ایٹڈ پریس نے یکم اکتوبر کو افغان وزارتِ دفاع کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ کابل نے متعدد جنگجوؤں کے پاکستان سے افغانستان میں داخل ہونے کا دعویٰ کیا۔ پاکستان پہلے بھی ایسے الزامات مسترد کرتا رہا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ افغان سرزمین سے پاکستان کے خلاف سرگرم مسلح گروہوں کے ٹھکانوں اور کارروائیوں پر کارروائی ہونی چاہیے۔
دونوں ملک ایک دوسرے پر سرحد پار عسکریت پسندی کی سہولت کاری کے الزامات لگاتے رہے ہیں۔ کابل پاکستانی الزامات کی تردید کرتا ہے، جبکہ اسلام آباد کا مؤقف ہے کہ تحریک طالبان پاکستان اور دیگر گروہوں کو افغانستان میں جگہ ملتی ہے۔ اس پس منظر میں نورستان کے حالیہ واقعات نے پہلے سے کشیدہ دوطرفہ تعلقات میں مزید تلخی پیدا کی ہے۔
نورستان کی لڑائی کے بارے میں دستیاب تفصیلات میں فریقین کے دعوے ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ پاکستانی بیان بنیادی طور پر پاکستان کے کردار سے متعلق افغان الزامات کی تردید ہے، جبکہ افغانستان کی جانب سے لڑائی میں ہلاک اور گرفتار افراد کی تعداد اور ان کی وابستگی سے متعلق دعوے الگ طور پر کیے گئے ہیں۔ آزاد ذرائع سے تمام دعوؤں کی جامع تصدیق نہ ہونے کے باعث ان معلومات کو متعلقہ فریقوں کے بیانات کے طور پر ہی دیکھا جانا چاہیے۔
