اسلام آباد: وزارتِ خارجہ نے صومالیہ کے ساحل کے قریب اغوا شدہ آئل ٹینکر ایم ٹی آنر 25 کی بازیابی کے دوران پانچ عملہ ارکان کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے، جن میں تین پاکستانی شہری شامل ہیں۔ دفتر خارجہ نے 30 ستمبر کو جاری بیان میں متاثرہ خاندانوں سے تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ حکومت زخمی پاکستانیوں کے علاج، جاں بحق افراد کی میتیں وطن واپس لانے اور محفوظ بچ جانے والے عملے کی واپسی کے لیے متعلقہ حکام سے رابطے میں ہے۔

وزارتِ خارجہ کے مطابق جاں بحق پاکستانیوں کی شناخت رفیع اللہ خان، سید کاشف عمر اور محمود احمد انصاری کے نام سے ہوئی ہے۔ واقعے میں چار مزید عملہ ارکان زخمی ہوئے، جن میں تین پاکستانی ہیں۔ دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے اور انہیں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔

بیان کے مطابق جہاز سے محفوظ نکالے گئے عملے کو بندر بیلا کے ساحلی علاقے میں لایا گیا۔ پاکستان کا سفارتی عملہ، جو جبوتی میں پاکستانی مشن سے منسلک ہے، پاکستانی شہریوں کی مدد کے لیے وہاں پہنچنے کی کوشش کر رہا ہے۔ حکومت نے کہا کہ صومالی حکام اور دیگر متعلقہ فریقوں کے ساتھ رابطہ برقرار رکھا گیا ہے تاکہ زخمیوں کے علاج، میتوں کی منتقلی اور باقی پاکستانی عملے کی محفوظ وطن واپسی کے انتظامات مکمل کیے جا سکیں۔

دی ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق ایم ٹی آنر 25 صومالی پرچم کے تحت عمان سے صومالیہ جا رہا تھا جب اسے 21 اپریل کو قزاقوں نے ہائی جیک کر لیا تھا۔ جہاز پر پاکستانیوں سمیت متعدد ممالک کے عملے کے ارکان موجود تھے۔ پاکستانی خاندان کئی ماہ سے اپنے عزیزوں کی بحفاظت رہائی کے لیے حکومتی مدد کی اپیل کر رہے تھے۔

رپورٹ میں زندہ بچ جانے والے بعض ملاحوں اور فلاحی تنظیم کے حوالے سے بتایا گیا کہ ریسکیو آپریشن کے دوران قزاقوں نے پسپائی اختیار کرتے وقت عملے پر فائرنگ کی۔ اس مخصوص تفصیل کی بنیاد عینی شاہدین اور متعلقہ فریقوں کے بیانات ہیں۔ دفتر خارجہ نے اپنی سرکاری تصدیق میں ہلاکتوں، زخمیوں اور پاکستانی شہریوں کی معاونت کے اقدامات پر توجہ دی ہے۔

صومالیہ اور خلیج عدن کے گرد بحری راستوں پر قزاقی کے واقعات میں حالیہ عرصے کے دوران دوبارہ اضافہ رپورٹ ہوا ہے۔ اس واقعے نے تجارتی جہاز رانی میں کام کرنے والے پاکستانی ملاحوں کی سلامتی اور ہائی جیکنگ کے طویل واقعات کے دوران سفارتی و قونصلر معاونت کی اہمیت کو ایک بار پھر نمایاں کیا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ وہ تمام متعلقہ اداروں کے ساتھ مل کر متاثرہ خاندانوں اور زندہ بچ جانے والے پاکستانیوں کو ضروری مدد فراہم کر رہی ہے۔