کراچی: سندھ حکومت نے صوبے میں قائم کی جانے والی جدید فرانزک سائنس لیبارٹری کو دسمبر 2026 تک مکمل طور پر فعال کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ سندھ اسمبلی میں ہونے والے ایک اجلاس میں منصوبے کی تعمیر، آپریشنل ڈھانچے، سائنسی شعبوں، آلات، تربیت، معیار کی یقین دہانی اور بین الاقوامی ایکریڈیٹیشن سے متعلق پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔
اجلاس کی صدارت سندھ اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کی چیئرپرسن فریال تالپور نے کی۔ اجلاس میں صوبائی وزیر داخلہ و قانون ضیا الحسن لنجار، آئی ٹی کے مشیر علی راشد، اراکین اسمبلی، پراسیکیوٹر جنرل سندھ، ایڈیشنل چیف سیکریٹری داخلہ، محکمہ صحت، پولیس اور دیگر متعلقہ اداروں کے اعلیٰ حکام اور فرانزک و تکنیکی ماہرین شریک ہوئے۔
حکام نے بتایا کہ فرانزک لیبارٹری کی عمارت کی تعمیر آخری مراحل میں ہے اور کوشش کی جا رہی ہے کہ سہولت رواں سال دسمبر تک مکمل طور پر کام شروع کر دے۔ مجوزہ ادارہ ڈی این اے اور حیاتیاتی نمونوں کے معائنے، فنگر پرنٹ تجزیے، ٹاکسی کولوجی اور منشیات کی جانچ، آتشیں اسلحہ و بیلسٹکس، جائے وقوعہ کے تجزیے، شواہد کے حصول و تحفظ اور ڈیجیٹل و کمپیوٹر فرانزک سمیت متعدد خدمات فراہم کرے گا۔
اجلاس میں ایک مرحلہ وار روڈ میپ پر بھی غور کیا گیا جس میں ضروریات کے جائزے، ادارہ جاتی اور ورک فلو ڈیزائن، آلات کی خریداری، ماہر عملے کی بھرتی اور تربیت، سائنسی طریقہ کار کی توثیق، کوالٹی مینجمنٹ سسٹم اور بین الاقوامی ایکریڈیٹیشن شامل ہیں۔ حکام کے مطابق مقصد صرف ایک عمارت قائم کرنا نہیں بلکہ پولیس، پراسیکیوشن اور عدالتوں کو بروقت، قابل اعتماد اور سائنسی طور پر قابل تصدیق شواہد فراہم کرنے والا ادارہ بنانا ہے۔
اسی اجلاس میں سندھ کرمنل پراسیکیوشن سروس کی ڈیجیٹلائزیشن اور آٹومیشن کا بھی جائزہ لیا گیا۔ پراسیکیوٹر جنرل سندھ نے مجوزہ 'پراسیکیوشن کیس مینجمنٹ سسٹم' سے متعلق بریفنگ دی، جس کا مقصد ایف آئی آر کے اندراج اور تفتیش سے لے کر چالان، پراسیکیوٹر کی جانچ، ٹرائل، فیصلے اور اپیل تک مقدمات کی ڈیجیٹل نگرانی ممکن بنانا ہے۔
مجوزہ نظام کے ذریعے زیر التوا چالان، زیر حراست افراد، سماعتوں کے شیڈول، عدالتی پیش رفت اور فیصلوں سمیت اہم مراحل کی مانیٹرنگ کی جا سکے گی۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس سے مقدمات میں تاخیر اور رکاوٹوں کی نشاندہی، اداروں کے درمیان رابطے اور احتساب کو بہتر بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔ فریال تالپور نے متعلقہ محکموں کو ہدایت کی کہ انفراسٹرکچر، ٹیکنالوجی، انسانی وسائل، تربیت اور آپریشنل طریقہ کار کو ایک ساتھ آگے بڑھایا جائے تاکہ لیبارٹری فعال ہونے کے بعد مؤثر طور پر خدمات فراہم کر سکے۔
