مکمل کوریج

سپریم کورٹ کا عینی شاہدِ فائرنگ گواہی پر رہنما اصول

سپریم کورٹ نے فوجداری مقدمات میں عینی شاہدین کی گواہی کے جانچ کے بارے میں تحریری فیصلہ دیتے ہوئے کہا کہ اچانک اور جان لیوا فائرنگ کے واقعات میں گولیوں کی درست تعداد یا ہر زخم کے مقام کی غیر معمولی ریاضیاتی درستگی کی توقع غیر فطری اور غیر عملی ہے۔ جسٹس اشتیاق ابراہیم کے رشادت میں تین رکنی بینچ (صدرِ بنچ: جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ) نے سخیان بی بی کے قتل کے مقدمے میں محمد اظہر کی سزا برقرار رکھتے ہوئے اپیل مسترد کی اور عدالتی کارروائی میں انسانی ادراک، خوف اور صدمے کی عملی حدود کو ملحوظ رکھنے کی ہدایت کی۔ عدالت نے کہا کہ انتہائی دباؤ میں بعض معمولی اختلافات فطری انسانی محدودیت کی علامت ہو سکتے ہیں، نفسیاتی تحقیق کی بنیاد پر توجہ کا محدود ہونا ہو سکتا ہے، اور نچلی عدالتوں کو ایسے غیر معمولی مفصل بیانات کا محتاط جائزہ لینا چاہیے جبکہ تمام شواہد کو مجموعی طور پر پرکھنا ضروری ہے۔

1 خبریںاہم موضوعآخری خبر:

خبروں کا تسلسل · تازہ ترین پہلے

سپریم کورٹ کا عینی شاہدِ فائرنگ گواہی پر رہنما اصول | اردو ہیڈ لائنز