سپریم کورٹ نے فوجداری مقدمات میں عینی شاہدین کی گواہی جانچنے سے متعلق اہم مشاہدات دیتے ہوئے کہا ہے کہ اچانک اور جان لیوا فائرنگ کے واقعے کا سامنا کرنے والے شخص سے گولیوں کی تعداد یا ہر زخم کے مقام کی غیر معمولی درستگی کے ساتھ تفصیل بیان کرنے کی توقع انسانی صلاحیت سے مطابقت نہیں رکھتی۔ ڈان کے مطابق جسٹس اشتیاق ابراہیم نے یہ ریمارکس ایک تحریری فیصلے میں دیے۔
تین رکنی بینچ، جس کی سربراہی جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ کر رہے تھے، نے محمد اظہر اور ریاست کی جانب سے لاہور ہائی کورٹ بہاولپور بینچ کے 2021 کے فیصلے کے خلاف اپیلوں کی سماعت کی۔ سپریم کورٹ نے 2017 میں سخیان بی بی کے قتل کے مقدمے میں محمد اظہر کی سزا برقرار رکھتے ہوئے اپیل مسترد کر دی۔ ٹرائل کورٹ نے سزائے موت سنائی تھی جسے ہائی کورٹ نے عمر قید میں تبدیل کیا تھا۔
فیصلے میں کہا گیا کہ انسانی رویے کو کسی جامد فارمولے کا پابند نہیں بنایا جا سکتا اور ہر گواہ ایک ہی واقعے کو یکساں انداز میں دیکھنے یا یاد رکھنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ اچانک فائرنگ، خوف اور صدمے کے دوران معمولی اختلافات فطری انسانی محدودیت کی علامت ہو سکتے ہیں۔
عدالت نے یہ بھی کہا کہ نچلی عدالتوں کو ایسے بیانات کا محتاط جائزہ لینا چاہیے جن میں انتہائی دباؤ کے باوجود ہر گولی کی سمت اور جسم پر اس کے مقام کی غیر معمولی باریکی سے تفصیل دی گئی ہو۔ فیصلے میں نفسیاتی تحقیق کے حوالے سے توجہ کے محدود ہو جانے کے رجحان کا ذکر بھی کیا گیا، جس میں مسلح حملے کے دوران گواہ کی توجہ زیادہ تر ہتھیار پر مرکوز ہو سکتی ہے۔
سپریم کورٹ نے زور دیا کہ کسی ایک ثبوت کو الگ تھلگ نہیں دیکھا جانا چاہیے بلکہ تمام دستیاب شواہد کو مجموعی طور پر جانچا جائے۔ یہ فیصلہ عینی شہادت کو ناقابلِ اعتبار قرار نہیں دیتا بلکہ عدالتوں کو انسانی ادراک، خوف اور صدمے کی عملی حدود کو ثبوت کی جانچ میں ملحوظ رکھنے کی ہدایت دیتا ہے۔
