اسلام آباد: پاکستان نے واضح کیا ہے کہ وہ افغانستان کے ساتھ بات چیت سے گریز نہیں کر رہا، تاہم مذاکرات کو غیر مشروط بنیادوں پر آگے نہیں بڑھایا جا سکتا اور اسلام آباد کے سکیورٹی خدشات کے ازالے کے لیے قابلِ تصدیق اقدامات ضروری ہوں گے۔ دفتر خارجہ کے ترجمان سجاد حیدر خان نے ہفتہ وار بریفنگ میں کہا کہ پاکستان افغان نمائندوں کے ساتھ گفتگو کے لیے تیار ہے اور ایسے دوست ممالک کی مخلصانہ کوششوں کا خیرمقدم کرے گا جو علاقائی امن اور پاکستان کے جائز سکیورٹی خدشات کے حل میں مدد دے سکیں۔

ڈان کی رپورٹ کے مطابق دفتر خارجہ نے اس تاثر کو مسترد کیا کہ اسلام آباد کابل سے بات چیت نہیں چاہتا۔ پاکستانی مؤقف کا مرکزی نکتہ یہ ہے کہ افغان سرزمین سے پاکستان کے خلاف دہشت گرد حملوں کی روک تھام کے لیے ایسا طریقہ کار ہونا چاہیے جس کے نتائج کی تصدیق کی جا سکے۔ پاکستان ماضی میں بھی افغان حکام سے سرحد پار عسکریت پسندی کے معاملے پر اقدامات کا مطالبہ کرتا رہا ہے، جبکہ کابل کی جانب سے مختلف مواقع پر ان الزامات کی تردید یا مختلف تشریح سامنے آتی رہی ہے۔ اس لیے متعلقہ دعوؤں کو دونوں ملکوں کے سرکاری مؤقف کے تناظر میں دیکھنا ضروری ہے۔

ترجمان سے روس کی ممکنہ ثالثی کے بارے میں بھی سوال کیا گیا۔ دفتر خارجہ کے مطابق اس وقت کسی باضابطہ روسی ثالثی اقدام پر بات نہیں ہو رہی، تاہم پاکستان مخلص دوست ممالک کی ایسی کوششوں کے لیے کھلا ہے جو کشیدگی کم کرنے اور عملی حل تک پہنچنے میں مدد دیں۔ یہ بیان کسی نئے مذاکراتی دور کے باضابطہ آغاز کا اعلان نہیں بلکہ پاکستان کی شرائط اور سفارتی آمادگی کی وضاحت ہے۔

اسی بریفنگ میں دفتر خارجہ نے بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کے حالیہ بیانات کی بھی مذمت کی اور انہیں اشتعال انگیز قرار دیا۔ ترجمان نے کہا کہ مستقبل کی کسی جارحیت کا پاکستان جواب دے گا اور نئی دہلی کو خطے میں کشیدگی بڑھانے والی بیان بازی سے گریز کرنا چاہیے۔ بھارتی وزیر دفاع نے اس سے قبل دہشت گرد حملوں کی صورت میں سخت ردعمل کی بات کی تھی۔

پاکستان اور افغانستان کے تعلقات میں سرحدی سلامتی، عسکریت پسندی، تجارت اور آمدورفت ایک دوسرے سے جڑے اہم معاملات ہیں۔ تازہ پاکستانی بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسلام آباد رابطے کا دروازہ بند نہیں کر رہا، لیکن سکیورٹی ضمانتوں اور ان کی عملی تصدیق کو کسی بھی معنی خیز پیش رفت کے لیے بنیادی شرط سمجھتا ہے۔