لکی مروت: خیبر پختونخوا کے محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) نے کہا ہے کہ سکیورٹی فورسز کے ساتھ مشترکہ کارروائی میں زاہد گل نامی ایک مبینہ دہشت گرد کمانڈر مارا گیا، جسے سی ٹی ڈی نے 18 ستمبر کو کوہاٹ پولیس لائنز پر ہونے والے مہلک حملے کا مرکزی منصوبہ ساز قرار دیا ہے۔ یہ دعویٰ قانون نافذ کرنے والے ادارے کے بیان پر مبنی ہے اور ہلاک شخص کے مبینہ کردار کی آزادانہ عدالتی توثیق رپورٹ میں سامنے نہیں آئی۔

سی ٹی ڈی کے مطابق کارروائی لکی مروت میں کی گئی اور زاہد گل کا تعلق گل بہادر گروپ سے تھا۔ محکمے نے الزام عائد کیا کہ اس نے بارود سے بھری گاڑی کو کوہاٹ پولیس لائنز تک پہنچانے میں مرکزی کردار ادا کیا تھا۔ سی ٹی ڈی کا کہنا ہے کہ وہ دیگر دہشت گردی کے واقعات کے سلسلے میں بھی سکیورٹی اداروں کو مطلوب تھا۔

18 ستمبر کے حملے میں دھماکا خیز مواد سے لدی گاڑی پولیس لائنز کے قریب مسجد کے پاس دھماکے سے اڑائی گئی تھی، جس کے بعد مسلح حملہ آوروں نے کمپاؤنڈ میں داخل ہو کر پولیس تنصیبات کو نشانہ بنایا۔ حکام کے مطابق اس حملے میں 17 پولیس اہلکار اور چھ شہری جان سے گئے تھے۔ بعد ازاں سکیورٹی اداروں نے حملہ آوروں اور ان کے سہولت کاروں کی تلاش کے لیے مختلف کارروائیاں شروع کیں۔

سی ٹی ڈی کے تازہ بیان میں زاہد گل کو اس حملے کا ماسٹر مائنڈ قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ مشترکہ آپریشن کے دوران اسے ہلاک کیا گیا۔ دیگر میڈیا رپورٹس میں بھی پولیس حکام کے حوالے سے اس کارروائی اور شناخت کی تصدیق کی گئی ہے۔ تاہم کسی بھی زیر تفتیش نیٹ ورک میں ذمہ داری کے مکمل تعین، مالی معاونت یا دیگر افراد کے کردار سے متعلق حتمی نتائج متعلقہ تحقیقات اور قانونی کارروائی سے مشروط ہوتے ہیں۔

خیبر پختونخوا میں حالیہ مہینوں کے دوران پولیس اور سکیورٹی تنصیبات کو نشانہ بنانے والے حملوں کے بعد انسداد دہشت گردی کارروائیوں میں اضافہ ہوا ہے۔ لکی مروت اور جنوبی اضلاع ان علاقوں میں شامل ہیں جہاں قانون نافذ کرنے والے ادارے انٹیلی جنس کی بنیاد پر کارروائیاں کرتے رہے ہیں۔

حکام نے اس آپریشن کو کوہاٹ حملے کی تحقیقات میں اہم پیش رفت قرار دیا ہے، لیکن واقعے سے منسلک دیگر مشتبہ افراد، سہولت کاری کے مبینہ ڈھانچے اور زیر تفتیش شواہد کے بارے میں مکمل تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔ اس لیے تازہ پیش رفت کو سی ٹی ڈی کے سرکاری دعوے اور جاری انسداد دہشت گردی تحقیقات کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔