لکی مروت: خیبر پختونخوا کے محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) نے کہا ہے کہ کوہاٹ پولیس لائنز پر ستمبر میں ہونے والے مہلک حملے کا مبینہ ماسٹر مائنڈ زاہد گل لکی مروت میں سکیورٹی فورسز کے ساتھ مشترکہ انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران مارا گیا۔ سی ٹی ڈی کے مطابق کارروائی لکی مروت کے علاقے میں خفیہ معلومات کی بنیاد پر کی گئی۔

محکمے نے زاہد گل کو کالعدم گل بہادر گروپ سے وابستہ قرار دیتے ہوئے الزام عائد کیا کہ اس نے 18 ستمبر کو پرانی کوہاٹ پولیس لائنز پر حملے میں استعمال ہونے والی بارود سے بھری گاڑی کو ہدف تک پہنچانے میں براہ راست کردار ادا کیا تھا۔ اس حملے میں پولیس اہلکاروں اور شہریوں سمیت متعدد افراد جان سے گئے تھے۔ سی ٹی ڈی کے دعووں کی آزادانہ تصدیق رپورٹنگ کے وقت سامنے نہیں آئی، اس لیے ان تفصیلات کو سرکاری ادارے کے بیان سے منسوب کیا جا رہا ہے۔

سی ٹی ڈی نے مزید الزام لگایا کہ زاہد گل کوہاٹ کے بلی ٹنگ علاقے میں ہونے والی ایک بینک ڈکیتی میں بھی ملوث تھا، جہاں سے 60 لاکھ روپے لوٹے گئے تھے۔ محکمے کے مطابق یہ رقم بعد میں بنوں کے بکاخیل اور جانی خیل علاقوں میں سرگرم شدت پسند گروہوں میں تقسیم کی گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ ملزم متعدد خودکش حملہ آوروں کو کوہاٹ منتقل کرنے اور دہشت گردی کی کارروائیوں میں سہولت فراہم کرنے میں بھی ملوث رہا۔

محکمہ انسداد دہشت گردی کے مطابق تقریباً دو ماہ قبل نئے کوہاٹ پولیس لائنز کو نشانہ بنانے کے لیے ایک خودکش حملہ آور لانے کی کوشش بھی کی گئی تھی، تاہم منصوبہ ناکام بنا دیا گیا۔ سی ٹی ڈی نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ایک پاکستان ایئر فورس تنصیب اور کوہاٹ پولیس ٹریننگ اسکول ممکنہ آئندہ اہداف میں شامل تھے۔ ان الزامات کے بارے میں کسی عدالتی فیصلے یا آزاد تحقیق کا حوالہ نہیں دیا گیا۔

حکام کے مطابق مبینہ نیٹ ورک کے بعض دیگر افراد پہلے ہی قانون نافذ کرنے والے اداروں کی تحویل میں ہیں۔ کارروائی کی مزید تفصیلات، زخمیوں یا گرفتاریوں کے بارے میں فوری طور پر جامع معلومات جاری نہیں کی گئیں۔

کوہاٹ پولیس لائنز پر ستمبر کا حملہ خیبر پختونخوا میں حالیہ مہینوں کے بڑے سکیورٹی واقعات میں شمار ہوتا ہے۔ تازہ کارروائی کے بارے میں سی ٹی ڈی کا مؤقف ہے کہ حملے سے منسلک اہم سہولت کار کو ہدف بنایا گیا ہے۔ تاہم زاہد گل کے خلاف بیان کردہ کردار، مالی معاونت اور آئندہ حملوں کی منصوبہ بندی سے متعلق تمام دعوے فی الحال سی ٹی ڈی اور پولیس کے بیانات پر مبنی ہیں۔