پشاور: خیبر پختونخوا کے گورنر فیصل کریم کنڈی نے پولیس اہلکاروں اور ان کے خاندانوں کے لیے فلاحی پیکج میں ترمیم کا اعلان کیا ہے، جس کے تحت دورانِ ڈیوٹی شہید ہونے والے اہلکاروں کے خاندانوں کے لیے مالی معاوضہ مختلف درجات میں بڑھا کر 3 کروڑ 50 لاکھ روپے تک کر دیا گیا ہے۔ نئی اسکیم میں رہائشی پلاٹ کی جگہ نقد ادائیگی کا طریقہ بھی شامل کیا گیا ہے تاکہ خاندانوں کو دور دراز علاقوں میں پلاٹ ملنے سے پیدا ہونے والی مشکلات کم کی جا سکیں۔

گورنر کے مطابق سابقہ اسکیم کے تحت بعض شہدا کے خاندانوں کو ایسے شہروں یا علاقوں میں پلاٹ الاٹ ہو جاتے تھے جو ان کے آبائی ضلع سے بہت دور تھے۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ ڈیرہ اسماعیل خان، لکی مروت یا بنوں سے تعلق رکھنے والے خاندان کو نوشہرہ یا سوات میں پلاٹ ملنے سے عملی مسائل پیدا ہوتے تھے۔ ترمیم شدہ پالیسی میں پلاٹ کی نوعیت اور درجے کے مطابق نقد رقم دینے کی گنجائش رکھی گئی ہے، جو بعض صورتوں میں 7 کروڑ روپے تک بتائی گئی ہے۔

فلاحی پیکج میں زخمی پولیس اہلکاروں کے لیے معاوضے بھی بڑھائے گئے ہیں۔ اعلان کے مطابق مستقل معذوری کی صورت میں ادائیگی 5 لاکھ روپے سے بڑھا کر 50 لاکھ روپے کر دی گئی ہے، جبکہ شدید زخمی ہونے والے اہلکار کے لیے معاوضہ ایک لاکھ روپے سے بڑھا کر 15 لاکھ روپے کیا گیا ہے۔ ان تبدیلیوں کا مقصد ایسے اہلکاروں اور خاندانوں کو زیادہ مالی تحفظ دینا بتایا گیا ہے جو دہشت گردی یا دیگر خطرناک ڈیوٹی کے دوران جانی یا جسمانی نقصان اٹھاتے ہیں۔

خیبر پختونخوا پولیس گزشتہ کئی برسوں سے دہشت گرد حملوں میں بھاری جانی نقصان برداشت کرتی رہی ہے، خصوصاً صوبے کے جنوبی اور سرحدی اضلاع میں پولیس تنصیبات، اہلکاروں اور گشت کرنے والی ٹیموں کو نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔ اسی پس منظر میں پولیس کے لیے معاوضوں، انشورنس اور خاندانوں کی طویل مدتی کفالت کے انتظامات صوبائی پالیسی کا اہم حصہ بن چکے ہیں۔

تازہ اعلان بنیادی طور پر مالی فوائد کی شرح اور پلاٹ کے متبادل ادائیگی کے طریقے میں تبدیلی ہے۔ اس کا عملی اطلاق متعلقہ قواعد، شہید یا زخمی اہلکار کے درجے، کیس کی منظوری اور سرکاری دستاویزات کے مطابق ہوگا۔ اس لیے اعلان کردہ زیادہ سے زیادہ رقوم ہر کیس میں یکساں ادائیگی نہیں بلکہ پالیسی کے مختلف زمروں سے وابستہ ہیں۔

گورنر نے پولیس اہلکاروں کی خدمات کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ شہدا کے خاندانوں اور زخمی اہلکاروں کی فلاح ریاستی ذمہ داری ہے۔ نئی اسکیم کے نفاذ کے بعد یہ دیکھا جائے گا کہ نقد متبادل کا طریقہ خاندانوں کو رہائش اور مالی ضروریات کے بارے میں زیادہ اختیار فراہم کرتا ہے یا نہیں۔