پاکستان نے کہا ہے کہ وہ افغانستان کے ساتھ مذاکرات سے گریز نہیں کر رہا، تاہم بات چیت غیر مشروط نہیں ہوگی اور کسی بھی پیش رفت کے لیے ایسا قابلِ تصدیق انتظام ضروری ہے جو افغان سرزمین سے پاکستان کے خلاف دہشت گرد سرگرمیوں کے خاتمے کی جانچ کر سکے۔ دفتر خارجہ کے ترجمان سجاد حیدر خان نے ہفتہ وار بریفنگ میں یہ مؤقف بیان کیا۔

ترجمان کے مطابق پاکستان دوست ممالک کی ایسی سنجیدہ کوششوں کا خیرمقدم کرے گا جو اس کے سکیورٹی خدشات دور کرنے اور علاقائی امن میں مدد دیں۔ روس کی جانب سے ثالثی کی آمادگی کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ اس وقت کسی الگ باضابطہ روسی ثالثی اقدام پر بات چیت ان کے علم میں نہیں، تاہم نتیجہ خیز سفارتی رابطے کے لیے پاکستان کھلا ہے۔

اسلام آباد کا بنیادی مؤقف کالعدم تحریک طالبان پاکستان اور دیگر گروہوں سے متعلق ہے جن کے بارے میں پاکستان الزام عائد کرتا ہے کہ وہ افغان سرزمین سے سرحد پار حملوں کے لیے سرگرم ہیں۔ افغان طالبان حکام ان الزامات کو مسترد کرتے رہے ہیں کہ افغانستان کو پاکستان کے خلاف حملوں کے اڈے کے طور پر استعمال ہونے دیا جا رہا ہے۔

دفتر خارجہ نے ماسکو فارمیٹ کے حالیہ اجلاس میں مشترکہ اعلامیہ جاری نہ ہونے کو بھی اختلافات کی علامت قرار دیا۔ پاکستانی ترجمان کے مطابق افغان وفد نے دہشت گرد نیٹ ورکس سے متعلق ایسی زبان قبول نہیں کی جو گزشتہ سال کے متن میں شامل تھی۔ یہ پاکستان کا سرکاری مؤقف ہے؛ کابل کی جانب سے اس تشریح پر الگ مؤقف موجود ہے۔

پاکستان اور افغانستان کے درمیان قطر، ترکی، سعودی عرب اور چین کی میزبانی یا سہولت کاری میں مختلف رابطے ہو چکے ہیں، لیکن دہشت گرد گروہوں اور سرحد پار حملوں کے مسئلے پر پائیدار اتفاق نہیں ہو سکا۔ نئی بریفنگ سے واضح ہے کہ اسلام آباد بات چیت کا دروازہ بند نہیں کر رہا، مگر اسے عملی سکیورٹی نتائج سے مشروط کر رہا ہے۔