لاہور: لاہور ہائیکورٹ نے افغان میڈیکل طلبہ کی بے دخلی اور ملک بدری کے خلاف جاری عبوری حکم میں توسیع کر دی ہے اور پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) کو مقدمے میں تحریری جواب جمع کرانے کے لیے مزید مہلت دے دی۔ ڈان کے مطابق جسٹس خالد اسحاق نے 30 سے زائد افغان طلبہ، جن میں سید مبین الفتی بھی شامل ہیں، کی درخواستوں پر سماعت کی۔
درخواست گزاروں نے پی ایم ڈی سی کے ان نوٹیفکیشنز کو چیلنج کیا ہے جن کے تحت انہیں افغانستان واپس جانے کی ہدایت دی گئی تھی۔ رپورٹ کے مطابق متعلقہ نوٹیفکیشن 31 جولائی اور یکم ستمبر کو جاری کیے گئے تھے۔ طلبہ نے عدالت سے استدعا کی کہ ان ہدایات کو غیر قانونی قرار دے کر کالعدم کیا جائے۔ عدالت نے اس سے قبل 11 ستمبر کو پی ایم ڈی سی کی ہدایات پر عمل درآمد معطل کرتے ہوئے طلبہ کو واپس بھیجنے سے روک دیا تھا۔
تازہ سماعت کے دوران پی ایم ڈی سی کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ وزیراعظم آفس نے متعلقہ حکام کو ہدایت دی ہے کہ افغان طلبہ کو اپنی تعلیم جاری رکھنے کی اجازت دی جائے، بشرطیکہ وہ درست ویزا اور امیگریشن تقاضے پورے کرتے ہوں۔ عدالت نے جب تحریری جواب کے بارے میں استفسار کیا تو کونسل کے وکیل نے مزید وقت مانگا، جسے منظور کر لیا گیا۔
عدالت نے مقدمے کی اگلی تاریخ دفتر کی جانب سے مقرر کیے جانے تک حکام کو طلبہ کی ملک بدری سے روکنے والا حکم بھی برقرار رکھا۔ یہ عبوری عدالتی تحفظ ہے؛ عدالت نے ابھی درخواستوں کے بنیادی قانونی نکات پر حتمی فیصلہ نہیں سنایا۔ اسی طرح وزیراعظم آفس کی ہدایت بھی ویزا اور امیگریشن قوانین کی پابندی سے مشروط بتائی گئی ہے۔
یہ مقدمہ پاکستان میں زیر تعلیم افغان طلبہ کی تعلیمی حیثیت، پیشہ ورانہ ریگولیٹری تقاضوں اور امیگریشن پالیسی کے باہمی تعلق سے متعلق ہے۔ حتمی قانونی صورتِ حال پی ایم ڈی سی کے جواب، درخواست گزاروں کے دلائل اور عدالت کے آئندہ فیصلے سے واضح ہوگی۔ فی الحال درخواست گزار طلبہ کو عبوری عدالتی تحفظ حاصل ہے اور انہیں فوری طور پر ملک بدر نہیں کیا جا سکتا۔
