پشاور: یکہ توت کے علاقے میں بم ڈسپوزل اہلکاروں نے تقریباً 11 کلوگرام وزنی دھماکا خیز مواد کو ناکارہ بنا دیا، جس سے ممکنہ نقصان ٹل گیا۔ ڈان کی 17 اکتوبر کی رپورٹ کے مطابق مشتبہ بم کی اطلاع ملنے کے بعد متعلقہ سکیورٹی اور بم ڈسپوزل اہلکار موقع پر پہنچے اور اسے محفوظ طریقے سے غیر مؤثر کیا۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ واقعے کے بعد خیبر پختونخوا کے کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کو مقدمہ درج کرنے کے لیے خط بھیجا گیا۔ اس مرحلے پر بم رکھنے والے افراد، ان کے ممکنہ مقصد یا کسی تنظیم سے تعلق کے بارے میں حتمی طور پر کچھ ثابت نہیں ہوا۔ تفتیشی اداروں کی آئندہ کارروائی ہی یہ واضح کرے گی کہ دھماکا خیز مواد کس نے رکھا اور ہدف کیا تھا۔
11 کلوگرام دھماکا خیز مواد کی برآمدگی شہری علاقے میں سکیورٹی کے لیے سنجیدہ واقعہ ہے، تاہم چونکہ بم پھٹنے سے پہلے ناکارہ بنا دیا گیا اس لیے رپورٹ میں جانی نقصان کی اطلاع نہیں۔ ایسے واقعات میں جائے وقوعہ سے حاصل ہونے والے شواہد، بم کی ساخت، ڈیٹونیٹر یا دیگر اجزا کی فرانزک جانچ تفتیش کے لیے اہم ہو سکتی ہے، لیکن موجودہ دستیاب رپورٹ میں ان تفصیلات کے بارے میں حتمی نتائج نہیں دیے گئے۔
پشاور اور خیبر پختونخوا کے دیگر حصوں میں حالیہ سکیورٹی چیلنجز کے تناظر میں پولیس اور سی ٹی ڈی کی نگرانی اہم ہے۔ تاہم ہر برآمد ہونے والے دھماکا خیز آلے کو کسی مخصوص گروہ سے جوڑنے کے لیے ثبوت درکار ہوتے ہیں، اس لیے ذمہ داری سے متعلق کسی بھی دعوے کو سرکاری تفتیش یا معتبر تصدیق کے بغیر حتمی نہیں سمجھا جا سکتا۔
موجودہ واقعے میں فوری نتیجہ یہ ہے کہ بم ڈسپوزل کارروائی کامیاب رہی اور ممکنہ دھماکا روک دیا گیا۔ اب قانونی اور تفتیشی مرحلہ سی ٹی ڈی اور دیگر متعلقہ اداروں کے ذریعے آگے بڑھے گا، جس میں ذمہ داروں کی شناخت اور ممکنہ ہدف کا تعین شامل ہوگا۔
