کراچی: سندھ حکومت صوبے کی سرکاری جامعات میں پروفیسروں کی ریٹائرمنٹ کی عمر 60 سے بڑھا کر 65 سال کرنے پر غور کر رہی ہے۔ ڈان کے مطابق چیف سیکریٹری سندھ آصف حیدر شاہ نے 32 سرکاری جامعات کے وائس چانسلرز کے اجلاس میں بتایا کہ اس تجویز کی سمری صوبائی کابینہ کو بھیجی جائے گی۔ یہ ابھی زیر غور تجویز ہے اور کابینہ کی منظوری کے بغیر نافذ شدہ پالیسی نہیں۔

اجلاس میں جامعات کی مالی، انتظامی، تدریسی اور بنیادی ڈھانچے سے متعلق مشکلات کا جائزہ لیا گیا۔ وائس چانسلرز نے کہا کہ تجربہ کار اساتذہ کو برقرار رکھنا مشکل ہو رہا ہے کیونکہ نجی جامعات بعض اوقات زیادہ تنخواہیں پیش کرتی ہیں۔ اس پس منظر میں ریٹائرمنٹ عمر بڑھانے کی تجویز کو تدریسی تجربہ برقرار رکھنے کے ایک ممکنہ طریقے کے طور پر پیش کیا گیا۔

چیف سیکریٹری کے مطابق سندھ حکومت جامعات کو 44.46 ارب روپے گرانٹ اِن ایڈ فراہم کر رہی ہے، لیکن پنشن اور بجلی کے اخراجات اس رقم کا بڑا حصہ استعمال کر رہے ہیں۔ انہوں نے غیر ضروری بھرتیوں، بالخصوص غیر تدریسی عہدوں پر، احتیاط کی ہدایت کی تاکہ مالی بوجھ محدود رکھا جا سکے۔ سرکاری جامعات کے لیے شمسی توانائی کے پروگرام کا بھی ذکر کیا گیا تاکہ بجلی کے اخراجات کم کیے جا سکیں۔

اجلاس میں تحقیق، طلبہ کی بہبود، وظائف، ٹرانسپورٹ، رہائش، ڈیجیٹلائزیشن، ترقیاتی اسکیموں اور نئے کیمپسز کے قیام کے معاملات بھی زیر بحث آئے۔ چیف سیکریٹری نے کہا کہ نئے کیمپس کھولنے سے پہلے طلبہ کی متوقع تعداد اور تعلیمی افادیت سمیت باقاعدہ فزیبلٹی اور واضح معیار ہونا چاہیے۔

ریٹائرمنٹ عمر میں ممکنہ اضافہ اساتذہ کی دستیابی کے مسئلے میں مدد دے سکتا ہے، لیکن اس کے ساتھ پنشن، ترقی کے مواقع، نئی بھرتیوں اور جامعات کی مالی پائیداری پر اثرات بھی کابینہ کے فیصلے میں اہم ہوں گے۔ حتمی پالیسی سمری کی منظوری اور اس کے قانونی و انتظامی طریقہ کار کے بعد ہی واضح ہوگی۔