پشاور: پشاور ہائیکورٹ نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو سابق ایڈووکیٹ جنرل شاہ فیصل عثمان خیل کو اگلی سماعت تک گرفتار یا ہراساں کرنے سے روک دیا ہے۔ ڈان کے مطابق جسٹس سید ارشد علی اور جسٹس کامران حیات میانخیل پر مشتمل بینچ نے درخواست کی سماعت کرتے ہوئے مختصر حکم جاری کیا اور کیس کی اگلی سماعت 20 اکتوبر مقرر کی۔

درخواست سابق ایڈووکیٹ جنرل نے ممکنہ گرفتاری اور مبینہ ہراسانی کے خلاف دائر کی تھی۔ درخواست گزار نے خدشہ ظاہر کیا کہ ان کے خلاف مینٹیننس آف پبلک آرڈر قانون کی دفعہ 3 یا کسی دوسری قانونی شق کے تحت کارروائی کی جا سکتی ہے۔ ان کا مؤقف تھا کہ ایسی کسی کارروائی میں قانونی تقاضوں اور مناسب طریقہ کار کی پابندی ضروری ہے۔

درخواست میں الزام عائد کیا گیا کہ حکام سے منسلک اہلکاروں نے پشاور کے ورسک روڈ پر ایگزیکٹو لاجز میں ان کی رہائش گاہ پر چھاپہ مارا اور اس موقع پر کوئی وارنٹ، تحریری حکم، نوٹیفکیشن یا مخصوص قانونی جواز ان کے اہل خانہ کو نہیں بتایا گیا۔ یہ درخواست گزار کا دعویٰ ہے اور عدالت نے اس مرحلے پر اس الزام کی حتمی تصدیق یا ذمہ داری کا تعین نہیں کیا۔

حکومت کی جانب سے ایڈووکیٹ جنرل ثناء اللہ عدالت میں پیش ہوئے اور بتایا کہ وہ متعلقہ حکام کے ساتھ معاملہ اٹھائیں گے تاکہ اسے حل کیا جا سکے۔ عدالت کا حکم عبوری نوعیت کا ہے اور اس کا مقصد اگلی سماعت تک درخواست گزار کو گرفتاری یا ہراسانی سے تحفظ دینا ہے۔

یہ حکم کسی فوجداری یا انتظامی الزام پر بریت یا حتمی فیصلہ نہیں۔ 20 اکتوبر کی سماعت میں فریقین کے مؤقف، سرکاری ریکارڈ اور متعلقہ قانونی اختیار کی بنیاد پر کیس آگے بڑھے گا۔ معاملہ اس بنیادی قانونی اصول سے جڑا ہے کہ ریاستی اداروں کی گرفتاری یا حراست کی کارروائی واضح قانونی اختیار اور مقررہ طریقہ کار کے مطابق ہونی چاہیے۔