خیبر: ضلعی انتظامیہ نے لنڈی کوتل، باڑہ اور جمرود میں پانچ نجی اسکولوں کو عمارتوں کی انتہائی خراب حالت کے باعث سیل کر دیا ہے۔ ڈان کے مطابق تینوں تحصیلوں کے اسسٹنٹ کمشنرز نے متعدد نجی تعلیمی اداروں کا معائنہ کیا اور پانچ اسکول ایسے پائے گئے جہاں عمارتوں کی حالت طلبہ اور اساتذہ کی سلامتی کے لیے خطرہ سمجھی گئی۔

رپورٹ میں حکام کے حوالے سے بتایا گیا کہ بعض اسکولوں کی چھتیں مناسب تعمیراتی ڈھانچے کے بجائے بانس کے سہاروں یا کمزور مواد پر قائم تھیں جبکہ دیواریں بھی خستہ ہو رہی تھیں۔ انتظامیہ نے ان حالات کو فوری حفاظتی خطرہ قرار دیتے ہوئے متعلقہ اسکول بند کیے۔ یہ کارروائی عمارتوں کی جسمانی حالت کے معائنے کی بنیاد پر کی گئی اور اس کا مقصد کسی حادثے سے پہلے حفاظتی اقدام کرنا بتایا گیا۔

تعلیمی اداروں کی عمارتوں کی حفاظت کا معاملہ حالیہ دنوں میں زیادہ توجہ حاصل کر رہا ہے، بالخصوص ایسے واقعات کے بعد جن میں کمزور تعمیرات سے جانی نقصان ہوا۔ تاہم خیبر کے ان پانچ اسکولوں کے بارے میں رپورٹ میں کسی حادثے یا جانی نقصان کی اطلاع نہیں دی گئی؛ کارروائی احتیاطی نوعیت کی تھی۔

اسکول سیل ہونے کے بعد اہم سوال یہ ہوگا کہ عمارتوں کی مرمت، دوبارہ معائنہ اور تعلیمی سرگرمیوں کی بحالی کے لیے کیا معیار مقرر کیے جاتے ہیں۔ طلبہ کی تعلیم میں خلل کم رکھنے کے ساتھ یہ یقینی بنانا بھی ضروری ہے کہ عمارتیں دوبارہ کھولنے سے پہلے محفوظ قرار دی جائیں۔

نجی اسکولوں کی نگرانی میں ضلعی انتظامیہ، تعلیمی حکام اور متعلقہ ریگولیٹری اداروں کے کردار کی وضاحت بھی اہم ہے۔ مستقل بنیادوں پر عمارتوں کے معائنے، فائر سیفٹی، ہنگامی اخراج اور تعمیراتی معیار کی جانچ ایسے اقدامات ہیں جو خطرات کو پہلے شناخت کرنے میں مدد دے سکتے ہیں۔ موجودہ کارروائی میں پانچ ادارے بند کیے گئے ہیں اور آئندہ فیصلے سرکاری معائنے اور مطلوبہ اصلاحات کی تکمیل پر منحصر ہوں گے۔