راولپنڈی: پنجاب حکومت نے کہا ہے کہ چاہان ڈیم سے راولپنڈی کو صاف پانی فراہم کرنے کا منصوبہ دسمبر 2027 تک مکمل کرنے کا ہدف مقرر ہے۔ ڈان کے مطابق صوبائی وزیر ہاؤسنگ، شہری ترقی اور پبلک ہیلتھ انجینئرنگ بلال یاسین نے منصوبے کے دورے کے دوران فلٹریشن پلانٹ کی تعمیر کا جائزہ لیا اور بتایا کہ تکمیل کے بعد اس سے ڈھائی لاکھ سے زیادہ شہریوں کو فائدہ پہنچنے کی توقع ہے۔
واسا حکام نے وزیر کو بریفنگ میں بتایا کہ منصوبے کی مجموعی لاگت تقریباً 35 ارب روپے ہے اور اسے ایشیائی ترقیاتی بینک اور پنجاب حکومت کی مالی معاونت سے مکمل کیا جا رہا ہے۔ منصوبے کا مقصد زیر زمین پانی پر دباؤ کم کرنا اور سطحی آبی ذرائع سے شہر کی فراہمی بڑھانا ہے۔ حکام کے مطابق منصوبہ 25.8 ملین گیلن یومیہ پانی فراہم کرنے کی منصوبہ بند گنجائش رکھتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق تعمیراتی کام اکتوبر 2024 میں شروع ہوا تھا۔ ایشیائی ترقیاتی بینک نے راولپنڈی میں صاف پانی سے متعلق چار بڑے منصوبوں کے لیے پنجاب حکومت کو 114 ملین ڈالر قرض فراہم کیا ہے، جس پر رپورٹ میں دو فیصد شرح سود کا ذکر کیا گیا۔ چاہان ڈیم منصوبہ انہی شہری آبی ضروریات کو پورا کرنے کی کوششوں کا حصہ ہے۔
صوبائی وزیر نے کہا کہ واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ آئندہ سال مکمل ہونے کی توقع ہے اور منصوبہ راولپنڈی کے مختلف علاقوں میں پینے کے صاف پانی کی دستیابی بہتر کرے گا۔ تاہم دسمبر 2027 کی تاریخ فی الحال حکومتی اور منصوبہ جاتی ہدف ہے؛ کسی بھی بڑے انفراسٹرکچر منصوبے کی طرح اصل تکمیل تعمیراتی رفتار، مالیاتی انتظام، تکنیکی کام اور دیگر عملی عوامل سے مشروط ہوگی۔
راولپنڈی طویل عرصے سے زیر زمین پانی پر نمایاں انحصار اور شہری آبادی میں اضافے کے باعث پانی کی قلت کے دباؤ کا سامنا کرتا رہا ہے۔ سطحی پانی کے نئے ذرائع شامل ہونے سے زیر زمین ذخائر پر دباؤ کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے، لیکن اس کے حقیقی اثرات منصوبے کی بروقت تکمیل، تقسیم کے نیٹ ورک اور پانی کے معیار کو برقرار رکھنے کے انتظامات سے وابستہ ہوں گے۔
