لاہور: لاہور ہائیکورٹ نے پنجاب حکومت کے 2027 میں دس روزہ بسنت میلہ منعقد کرنے کے مجوزہ منصوبے کے خلاف دائر درخواست کو درخواست گزار کی جانب سے واپس لیے جانے کی بنیاد پر خارج کر دیا۔ ڈان کے مطابق جسٹس شہرام سرور چوہدری نے شہری شاہد اسلام کی درخواست پر سماعت کی اور ابتدا ہی میں اس سوال پر توجہ دی کہ باضابطہ سرکاری نوٹیفکیشن کے بغیر مجوزہ میلے کو قانونی طور پر کس بنیاد پر چیلنج کیا جا سکتا ہے۔
درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ بسنت سے متعلق معلومات حکومتی ویب سائٹ اور اخبارات سے حاصل کی گئی تھیں۔ عدالت نے مشاہدہ کیا کہ غیر مصدقہ معلومات کی بنیاد پر درخواست قائم نہیں کی جا سکتی اور وکیل کو ہدایت کی کہ پہلے متعلقہ سرکاری نوٹیفکیشن حاصل کیا جائے۔ جج نے یہ بھی کہا کہ حقِ معلومات کے قانون کے تحت نوٹیفکیشن کی مصدقہ نقل طلب کی جا سکتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق درخواست میں پنجاب حکومت کے مبینہ منصوبے کو چیلنج کیا گیا تھا جس کے تحت بسنت 29 جنوری سے 7 فروری 2027 تک منعقد کرنے کی بات سامنے آئی تھی۔ عدالت نے درخواست کے قانونی قابلِ سماعت ہونے کے پہلو پر سوال اٹھایا اور بالآخر اسے درخواست گزار کی جانب سے واپس لینے پر خارج کر دیا۔ اس فیصلے کو بسنت کے انعقاد کی عدالتی منظوری سمجھنا درست نہیں ہوگا، کیونکہ عدالت نے میلے کے میرٹ، حفاظتی انتظامات یا حتمی سرکاری پالیسی پر فیصلہ نہیں دیا۔
سماعت کے دوران ماضی میں بسنت پر پابندی اور مبینہ جانی نقصانات کا حوالہ بھی دیا گیا، تاہم عدالت نے وکیل کو قانونی نکات تک محدود رہنے کی ہدایت کی۔ صوبائی حکومت، چیف سیکریٹری، ہوم سیکریٹری، ڈپٹی کمشنر، آئی جی پولیس اور لاہور پولیس کے سربراہ سمیت متعدد حکام کو درخواست میں فریق بنایا گیا تھا۔
اب اگلی قانونی صورتِ حال اس بات پر منحصر ہوگی کہ پنجاب حکومت بسنت 2027 کے بارے میں باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کرتی ہے یا نہیں، اور اگر جاری ہوتا ہے تو اس میں حفاظتی، انتظامی اور قانونی شرائط کیا مقرر کی جاتی ہیں۔ کسی نئے عدالتی چیلنج کی بنیاد بھی اسی سرکاری دستاویز اور متعلقہ قانون پر ہوگی۔
