اسلام آباد: وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے اسلام آباد زون نے کہا ہے کہ گزشتہ چار ماہ کے دوران غیر قانونی ویزا ایجنٹوں، انسانی اسمگلنگ اور بیرون ملک روزگار کے نام پر مبینہ فراڈ کے خلاف کارروائیوں میں 190 افراد کو گرفتار کیا گیا اور مجموعی طور پر 61 کروڑ 55 لاکھ روپے سے زائد رقم برآمد کی گئی۔ ڈان کے مطابق یہ اعداد ایف آئی اے اسلام آباد زون کی جانب سے جاری کیے گئے ہیں۔
ایف آئی اے کے اعداد و شمار کے مطابق اسلام آباد اور راولپنڈی کے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکلز نے اس مدت میں مجموعی طور پر 1,543 ایف آئی آرز درج کیں۔ اسلام آباد سرکل نے 120 مشتبہ ویزا ایجنٹ گرفتار کیے، 41 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی ریکوری بتائی اور 875 مقدمات درج کیے۔ راولپنڈی سرکل کے بارے میں بتایا گیا کہ وہاں 70 گرفتاریاں ہوئیں، 20 کروڑ 45 لاکھ روپے برآمد کیے گئے اور 668 مقدمات درج ہوئے۔
یہ اعداد ادارے کی کارروائیوں اور دعوؤں کی نمائندگی کرتے ہیں؛ گرفتاری یا مقدمہ درج ہونا بذاتِ خود جرم ثابت ہونے کے مترادف نہیں۔ متعلقہ ملزمان کے خلاف قانونی ذمہ داری کا حتمی تعین عدالتوں میں شواہد اور عدالتی کارروائی کے بعد ہوگا۔ ایف آئی اے کا کہنا ہے کہ کارروائیوں کا مقصد شہریوں کو بیرون ملک ملازمت اور سفر کے نام پر دھوکہ دہی سے بچانا اور انسانی اسمگلنگ کے نیٹ ورکس کے خلاف قانون نافذ کرنا ہے۔
ادارے نے شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ کسی بھی بیرون ملک ملازمت، ویزا یا سفر کے معاملے میں رقم دینے سے پہلے ایجنٹ کی قانونی حیثیت اور دستاویزات کی تصدیق کریں اور مشتبہ فراڈ یا غیر قانونی سرگرمی کی اطلاع متعلقہ حکام کو دیں۔ بیرون ملک روزگار کی بڑھتی طلب کے باعث غیر مجاز ایجنٹوں کے ذریعے مالی نقصان اور انسانی اسمگلنگ کا خطرہ ایک مسلسل انتظامی مسئلہ ہے۔
اسی رپورٹ میں سائبر فراڈ کے خلاف این سی سی آئی اے کی الگ کارروائی کا بھی ذکر ہے، تاہم ایف آئی اے کے چار ماہ کے اعداد و شمار بنیادی طور پر ویزا فراڈ اور انسانی اسمگلنگ کے خلاف اسلام آباد زون کی کارروائیوں سے متعلق ہیں۔
