بلوچستان حکومت کے حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ صوبے کے مختلف علاقوں میں انٹیلی جنس بنیاد پر کارروائیوں کے دوران دس مبینہ شدت پسندوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔ ڈان کے مطابق گرفتار افراد میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان سے مبینہ طور پر وابستہ چھ افراد، دو مبینہ خواتین خودکش حملہ آور اور ایک کالعدم تنظیم کے دو کمانڈر شامل ہیں۔ یہ معلومات سرکاری بریفنگ میں دی گئی ہیں اور گرفتار افراد کے خلاف الزامات کا حتمی تعین عدالتی کارروائی میں ہونا ہے۔

وزیراعلیٰ بلوچستان کے مشیر برائے میڈیا و سیاسی امور شاہد رند نے ایڈیشنل چیف سیکریٹری حمزہ شفقات اور کوئٹہ کے ڈی آئی جی عمران شوکت کے ہمراہ بریفنگ میں کہا کہ پولیس، سکیورٹی فورسز اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے صوبے بھر میں کارروائیاں کیں۔ ان کے مطابق دو مبینہ کمانڈروں کو شابان اور کھڈکوچہ سے گرفتار کیا گیا، جبکہ چھ مبینہ ٹی ٹی پی ارکان اور دو خواتین کو بھی حراست میں لیا گیا۔

حکام نے بتایا کہ تقریباً 90 گرفتار مشتبہ افراد ایک مرکز میں موجود ہیں جہاں تحقیقات اور قانونی کارروائی جاری ہے۔ شاہد رند کے مطابق صوبائی حکومت ایسے افراد کے لیے واپسی اور بحالی کے پروگرام بھی چلا رہی ہے جو مسلح گروہوں سے تعلق ختم کرکے آئین اور قانون قبول کرنا چاہیں۔ حکومت کا کہنا ہے کہ یہ کوششیں خاندانوں، سیاسی نمائندوں اور ضلعی انتظامیہ کی مدد سے کی جا رہی ہیں۔

حمزہ شفقات نے بریفنگ میں اگست میں نیاز جتوئی اور حبیب الرحمان نامی دو افراد کی گرفتاری کا بھی ذکر کیا اور دعویٰ کیا کہ اس کارروائی سے 14 اگست کو کوئٹہ میں ایک منصوبہ بند حملہ ناکام بنایا گیا۔ ان کے مطابق اسلحہ اور دھماکا خیز مواد بھی برآمد کیا گیا۔ ان دعوؤں کی آزادانہ عدالتی تصدیق رپورٹ میں شامل نہیں تھی۔

ڈی آئی جی عمران شوکت نے کہا کہ سی ٹی ڈی اور دیگر اداروں نے بلوچستان میں 3,300 انٹیلی جنس بنیاد پر کارروائیاں کی ہیں، جن میں 300 سے زیادہ مشتبہ شدت پسند گرفتار کیے گئے۔ انہوں نے جاری انسداد دہشت گردی کارروائیوں میں دو سکیورٹی اہلکاروں کی ہلاکت کا بھی ذکر کیا۔

بلوچستان طویل عرصے سے مختلف نوعیت کی عسکریت پسندی اور سکیورٹی چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے۔ ایسے مقدمات میں گرفتاری، تفتیش، فردِ جرم اور عدالتی سزا الگ قانونی مراحل ہیں؛ اس لیے زیرِ حراست افراد کے بارے میں سرکاری الزامات کو حتمی عدالتی نتیجہ نہیں سمجھا جا سکتا۔