مسلسل اپ ڈیٹس

سپریم کورٹ کا عدالتی سرنڈر اور اپیلوں کا طریقۂ کار

سپریم کورٹ نے قواعدِ عدالت 2025 (آرڈر 24، رول 8) کی روشنی میں واضح کیا کہ سزا یافتہ شخص کی اپیل یا درخواست کو صرف اس بنیاد پر ناقابلِ سماعت قرار نہیں دیا جائے گا کہ اس نے پہلے پولیس یا جیل کے سامنے سرنڈر نہیں کیا۔ عدالت نے کہا کہ اگر درخواست گزار عدالت کے سامنے سرنڈر کرے تو متعلقہ بنچ فیصلہ کرے گا کہ عدالتی سرنڈر کافی ہے یا سزا کے حکم پر عمل کے لیے انہیں جیل بھیجنا ضروری ہے۔ یہ وضاحت سابق رکنِ قومی اسمبلی جمشید دستی کے کیس میں کی گئی؛ بنچ نے رجسٹرار آفس کے سرنڈر اعتراضات کو مسترد کیا، ایسی اپیلوں کو نمبر دینے اور عدالت میں مقرر کرنے کی ہدایت دی، اور جمشید دستی کو حفاظتی ضمانت دے کر پنجاب حکومت سے ان کے خلاف مقدمات کی تفصیلات طلب کیں۔ عدالت نے پولیس کو اگلی سماعت تک انہیں گرفتار نہ کرنے کی ہدایت کی اور کیس کی سماعت 22 اکتوبر تک ملتوی کی گئی۔ عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ یہ طریقۂ کار اپیلوں کی قابلِ سماعتی ترتیب سے متعلق ہے اور ہر مقدمے میں بنچ حقائق اور قانونی تقاضوں کی بنیاد پر حتمی فیصلہ کرے گا؛ اس حکم کو سزا کے خودکار معطلی یا خاتمے کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔

1 خبریںاہم موضوعآخری خبر:

خبروں کا تسلسل · تازہ ترین پہلے

سپریم کورٹ کا عدالتی سرنڈر اور اپیلوں کا طریقۂ کار | اردو ہیڈ لائنز