اسلام آباد: سپریم کورٹ نے ایک مقدمے میں واضح کیا ہے کہ سزا یافتہ شخص کی اپیل، درخواست یا پٹیشن کو صرف اس بنیاد پر ناقابل سماعت نہیں سمجھا جائے گا کہ اس نے پہلے پولیس یا جیل حکام کے سامنے سرنڈر نہیں کیا۔ عدالت نے کہا کہ اگر درخواست گزار خود عدالت کے سامنے سرنڈر کرے تو یہ فیصلہ متعلقہ بنچ کرے گا کہ اس کا عدالتی سرنڈر کافی ہے یا سزا کے حکم پر عمل کے لیے اسے جیل بھیجنا ضروری ہے۔

ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق جسٹس ملک شہزاد احمد خان کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے سپریم کورٹ رولز 2025 کے آرڈر 24 کے رول 8 کے متعلقہ استثنا کا حوالہ دیتے ہوئے یہ وضاحت سابق رکن قومی اسمبلی جمشید دستی سے متعلق معاملے میں کی۔ عدالت نے کہا کہ ترمیم شدہ قواعد کے تحت ایسے مقدمات میں حتمی فیصلہ عدالت کا ہوگا، نہ کہ رجسٹرار آفس کی سطح پر اپیل کو محض سرنڈر کے اعتراض پر روک دیا جائے۔

عدالتی حکم کے مطابق مستقبل میں سزا کے خلاف دائر ایسی اپیلوں، درخواستوں یا پٹیشنز کو نمبر دیا جائے گا اور انہیں عدالت کے سامنے پیش کیا جائے گا۔ بنچ نے جمشید دستی کی درخواست پر نومبر 2025 میں رجسٹرار آفس کی جانب سے اٹھائے گئے اعتراضات کو بھی مسترد کر دیا۔ عدالت نے ہدایت کی کہ درخواست گزار، اپیل کنندہ یا ان کے وکیل کی درخواست پر اس نوعیت کے مقدمات کو دفتری اعتراضات سمیت عدالت کے سامنے مقرر کیا جا سکتا ہے۔

بنچ نے جمشید دستی کو حفاظتی ضمانت بھی دی اور پنجاب حکومت سے صوبے میں ان کے خلاف درج مقدمات کی مجموعی تفصیلات طلب کر لیں۔ پولیس کو اگلی سماعت تک انہیں گرفتار نہ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے اور کیس کی سماعت 22 اکتوبر تک ملتوی کی گئی۔ حفاظتی ضمانت کا مطلب مقدمات یا الزامات کا خاتمہ نہیں بلکہ مقررہ مدت تک گرفتاری سے عدالتی تحفظ ہے۔

عدالت کی وضاحت کا تعلق اپیل یا درخواست کے قابل سماعت ہونے کے طریقہ کار سے ہے۔ اس حکم کو کسی سزا کے خودکار طور پر معطل یا ختم ہونے کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا۔ ہر مقدمے میں متعلقہ بنچ حقائق، سزا کے حکم اور قانونی تقاضوں کی بنیاد پر طے کرے گا کہ عدالت کے سامنے سرنڈر کافی ہے یا درخواست گزار کو جیل بھیجنا ضروری ہے۔

یہ فیصلہ سپریم کورٹ کے 2025 کے قواعد کے عملی اطلاق سے متعلق ایک اہم طریقہ کار واضح کرتا ہے۔ اس سے رجسٹرار آفس اور عدالتی بنچ کے کردار میں فرق بھی نمایاں ہوتا ہے: دفتری اعتراض کے باوجود معاملہ عدالت کے سامنے رکھا جا سکتا ہے، جبکہ سرنڈر کی نوعیت اور حراست سے متعلق حتمی فیصلہ بنچ کرے گا۔ جمشید دستی کے خلاف زیر التوا مقدمات کے میرٹ پر اس حکم میں کوئی حتمی فیصلہ نہیں دیا گیا۔