راولپنڈی: پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے کہا ہے کہ بلوچستان کے قلات اور گوادر اضلاع میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں کے دوران چار دہشت گرد مارے گئے، جبکہ پسنی کے علاقے شادی کور میں کلیئرنس آپریشن کے دوران بارودی مواد کے دھماکے میں میجر وجاہت وحید شہید ہوگئے۔ واقعے کی تفصیلات آئی ایس پی آر کے بیان کی بنیاد پر سرکاری خبر رساں ادارے اے پی پی، ریڈیو پاکستان اور دیگر پاکستانی نیوز رومز نے رپورٹ کی ہیں۔
آئی ایس پی آر کے مطابق انٹیلی جنس اداروں نے قلات کے جٹک آباد اور گوادر کی تحصیل پسنی کے شادی کور علاقے میں دہشت گردوں کے متعدد ٹھکانوں کی موجودگی کی اطلاع دی تھی۔ فوج کے بیان میں ان عناصر کو ریاست کی جانب سے استعمال کی جانے والی اصطلاح ’فتنہ الہندوستان‘ سے منسوب کیا گیا۔ اس دعوے اور غیر ملکی سرپرستی سے متعلق نسبت کو آئی ایس پی آر کا موقف سمجھا جانا چاہیے۔
فوجی بیان کے مطابق 18 اکتوبر کو جٹک آباد، ضلع قلات میں انٹیلی جنس بنیاد پر آپریشن کیا گیا۔ کارروائی کے دوران شدید فائرنگ کے تبادلے کے بعد چار دہشت گرد مارے گئے اور اسلحہ و گولہ بارود کی بڑی مقدار بھی برآمد کی گئی۔ مارے گئے افراد کی شناخت یا ان کے خلاف انفرادی الزامات کی مزید تفصیل جاری کردہ بیان میں نہیں دی گئی۔
دوسرے واقعے میں سکیورٹی فورسز نے شادی کور، تحصیل پسنی، ضلع گوادر میں کلیئرنس کارروائیوں کا سلسلہ شروع کیا۔ آئی ایس پی آر کے مطابق ایک کارروائی کے دوران میجر وجاہت وحید کی قیادت میں آگے بڑھنے والے دستے کو دیسی ساختہ بارودی مواد، یعنی آئی ای ڈی، سے نشانہ بنایا گیا۔ 34 سالہ میجر وجاہت وحید، جن کا تعلق لاہور سے تھا، اس دھماکے میں شہید ہوگئے۔
آئی ایس پی آر نے کہا کہ علاقے میں مزید دہشت گردوں کی موجودگی کے امکان کے پیش نظر سینیٹائزیشن اور کلیئرنس آپریشن جاری رہیں گے۔ فوجی بیان میں انسداد دہشت گردی کی مہم کو عزمِ استحکام کے فریم ورک کے تحت جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ بھی کیا گیا۔
صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف نے الگ الگ بیانات میں میجر وجاہت وحید کو خراج عقیدت پیش کیا اور سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں کو سراہا۔ وزیراعظم نے مقتول افسر کے اہل خانہ سے تعزیت کرتے ہوئے دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں جاری رکھنے کا حکومتی عزم دہرایا۔
بلوچستان میں حالیہ عرصے میں سکیورٹی فورسز کی متعدد کارروائیاں رپورٹ ہوئی ہیں۔ موجودہ واقعہ 18 اکتوبر کے جٹک آباد آپریشن اور شادی کور میں کلیئرنس کارروائی سے متعلق ہے اور اسے صوبے میں ایک روز پہلے رپورٹ ہونے والی کوئٹہ، نوشکی اور خضدار کی الگ کارروائیوں سے خلط ملط نہیں کیا جانا چاہیے۔

