اسلام آباد: مالدیپ کے صدر ڈاکٹر محمد معیزو وزیراعظم شہباز شریف کی دعوت پر منگل 20 اکتوبر سے پاکستان کا تین روزہ سرکاری دورہ کریں گے۔ سرکاری معلومات کے مطابق ان کے ہمراہ خاتونِ اول ساجدہ محمد، کابینہ کے ارکان اور اعلیٰ حکام پر مشتمل وفد بھی ہوگا۔ یہ گیارہ برس بعد مالدیپ کے کسی صدر کا پاکستان کا پہلا سرکاری دورہ ہوگا۔

دورے کے دوران صدر محمد معیزو صدرِ پاکستان سے ملاقات کریں گے، جبکہ ان کے اعزاز میں سرکاری ضیافت بھی دی جائے گی۔ وہ وزیراعظم شہباز شریف کے ساتھ محدود سطح اور وفود کی سطح پر مذاکرات کریں گے۔ بات چیت میں پاکستان اور مالدیپ کے مجموعی دوطرفہ تعلقات کا جائزہ لینے کے ساتھ تعاون کے نئے شعبوں کی نشاندہی کی جائے گی۔

سرکاری اعلامیے کے مطابق دونوں ممالک تجارت، سرمایہ کاری، صحت، تعلیم، سیاحت، زراعت، دفاع، بحری سلامتی، موسمیاتی تبدیلی اور عوامی روابط میں تعاون بڑھانے پر تبادلہ خیال کریں گے۔ علاقائی اور بین الاقوامی امور بھی مذاکرات کے ایجنڈے میں شامل ہوں گے۔ پاکستان اور مالدیپ بحرِ ہند کے خطے سے متعلق کئی مشترکہ دلچسپیاں رکھتے ہیں، جن میں سمندری سلامتی، موسمیاتی خطرات اور تجارتی رابطے شامل ہیں۔

دورے کے دوران پاکستان-مالدیپ بزنس فورم بھی منعقد کرنے کا پروگرام ہے۔ اس فورم کا مقصد دونوں ملکوں کی کاروباری برادریوں کے درمیان رابطہ بڑھانا اور تجارت و سرمایہ کاری کے نئے مواقع تلاش کرنا بتایا گیا ہے۔ حکام کے مطابق مختلف شعبوں میں متعدد معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط متوقع ہیں، تاہم حتمی تعداد اور ان کے مکمل متن کا اعلان دورے کے دوران ہونے والی رسمی کارروائی کے بعد ہی ہوگا۔

یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب پاکستان اور مالدیپ اپنے سفارتی تعلقات کے قیام کی 60ویں سالگرہ منا رہے ہیں۔ دونوں ممالک نے 1966 میں سفارتی تعلقات قائم کیے تھے اور علاقائی و بین الاقوامی فورمز پر تعاون برقرار رکھا ہے۔

نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے 17 اکتوبر کو اسلام آباد میں ایک اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے دورے کی تیاریوں کا جائزہ بھی لیا تھا۔ اس اجلاس میں تجارت، سرمایہ کاری، صحت، تعلیم، موسمیاتی تبدیلی، سیاحت اور شہری ہوا بازی میں تعاون کو دوطرفہ ایجنڈے کے اہم حصوں کے طور پر زیرِ بحث لایا گیا۔ آئندہ دورے میں متوقع معاہدوں کے حقیقی نتائج ان کے باضابطہ دستخط اور جاری کردہ متن کے بعد واضح ہوں گے۔